BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد پاکستانی وجیہہ فاروق سواتی کے قتل میں راولپنڈی پولیس کے کانسٹیبل کی استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے شہادت میں تضاد کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مذکورہ کانسٹیبل کی شہادت روک دی ہے عدالت نے قرار دیا کہ صرف قابل قبول شہادت کوریکارڈ کا حصہ بنایا جائے عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ غلط اور ناقابل قبول شہادت ریکارڈ پر لانے سے نہ صرف پراسیکیوشن اور وکیل صفائی بلکہ عدالت کی قابلیت عیاں ہوتی ہے عدالت نے اپنے آرڈرز میں قرار دیا کہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اس مقدمہ کی فائلوں میں کمزور اور ناکافی شہادتوں کو شامل کیا گیا ہے جو بالاخر ضائع ہو جاتی ہے اس صورتحال میں ناقبل قبول شہادتوں کو روکنااور ریکا رڈ کا حصہ نہ بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کی شہادت قلمبند کرنے کے لئے مزید گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کر دیئے اور سماعت 31مئی تک ملتوی کر دی سمیع اللہ نامی کانسٹیبل نے استغاثہ کے گواہ نمبر11کی حیثیت میں بیان قلمبند کروایا تھاکہ دونوں ملزمان نے باری باری تسلیم کیا تھا کہ وجیہہ سواتی کے قتل کے بعداس کی لاش کومقتولہ کے شوہررضوان حبیب کی کار میں دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا جبکہ پولیس کے روبرو دوران تفتیش مذکورہ گواہ کی جانب سے ایسی کوئی چیز نہیں سامنے نہیں لائی گئی لہٰذا گواہ اپنے سابقہ بیان سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں دے سکتا جس پر عدالت نے گواہ کی حیثیت سے کانسٹیبل سمیع اللہ کی گواہی روک دی عدالت نے مقدمہ کی سماعت 31مئی تک ملتوی کر دی گزشتہ روز وجیہہ سواتی قتل کیس کی سماعت کے موقع پر مقدمہ کا مرکزی ملزم رضوان حبیب،اس کے والد حریت اللہ خان سمیت دیگر ملزمان کو پولیس حراست میں پیش کیا گیا اس موقع پر ملزمان کے عکیل طلعت محمود زیدی اور سرکاری وکلا بھی عدالت میں موجود تھے یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version