BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے 3سنگین

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے 3سنگین نوعیت کے مقدمات کی ایک ہی دن سماعت اور اس دوران امن و امان کی کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی طلب کر لی ہے اس ضمن میں عدالت نے سی پی او راولپنڈی کو سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے لئے لیٹر لکھ دیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قتل کے3اہم اور سنگین ترین مقدمات کی آج (بروزمنگل)ایک ہی دن کی سماعت ہونا ہے جس سے امن وا مان کا شدید خطرہ ہو سکتا ہے عدالت کی جانب سے سٹی پولیس افسر راولپنڈی عمر سعید ملک کو بھجوائے گئے لیٹر نمبر89میں کہا گیا ہے کہ تھانہ صدر بیرونی میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ302کے تحت سال 2020میں درج مقدمہ نمبر698 میں نامزد دانش افتخار ایڈووکیٹ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے لئے آج (17مئی)کی تاریخ مقرر ہے اس مقدمہ میں سب انسپکٹر کو قتل کیا گیا تھا جس میں متعدد پولیس آفیشلز اور مقدمہ کے فریقین عدالت پیش ہوتے ہیں اسی طرح تھانہ چونترہ میں 9خواتین اوربچوں کے قتل پرتعزیرات پاکستان کی دفعات 302،148اور149کے تحت سال2020میں درج مقدمہ نمبر 247بھی عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے لئے آج (بروز منگل)کی تاریخ مقرر ہے اس مقدمہ کے ایک ملزم کو ضمانت پر رہائی کے بعد قتل کر دیا گیاجبکہ چند روز پہلے کی اطلاع کے مطابق اس مقدمہ کے2مزید افراد کو قتل کر دیا گیا اس مقدمہ کے ملزمان کو اٹک جیل سے لایا جاتا ہے عدالت نے زیر سماعت امریکی نژاد پاکستانی خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے قتل کے حوالے سے کہا کہ آج (بروز منگل)ہی اس کیس کی بھی تاریخ فکس ہے جبکہ اس مقدمہ میں امریکن ایمبیسی اور ایف بی آئی کے اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوتے ہیں اس صورتحال میں امن و امان کا شدید خدشہ ہے لہٰذا کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پرفول پروف حفاظتی انتظامات کئے جائیں یاد رہے کہ عدالت نے جن تین مقدمات کی نشاندہی کی ہے ان میں تھانہ صدر بیرونی میں مقتول سب انسپکٹرمحمد ارشدکے بیٹے کی مدعیت میں درج مقدمہ نمبر 698کے مطابق مقتول سب انسپکٹراپنے بیٹے،برادر نسبتی اور بھانجے کے ہمراہ اپنی ہنڈا گاڑی پر گھر جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی کے قریب آکر یکے بعد دیگرے3فائر کئے جو مقتول سب انسپکٹر کو لگے اور وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گئے جبکہ نذر عباس سکنہ میال کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ7اے ٹی اے کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 449،145اور149کے تحت تھانہ چونترہ میں درج مقدمہ نمبر247کے مطابق دانش نوازنے اپنے والد،بھائیوں اور چچا سمیت 11نامزد اور 10نامعلوم افراد کے ہمراہ قتل کا بدلہ لینے کے لئے میال گاؤں میں مخالفین کے گھروں میں فائرنگ کر کے مجموعی طور پر9خواتین اور بچوں کو قتل کر دیا تھاجبکہ تھانہ مورگاہ میں مقتولہ کے بیٹے کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات302، 365، 201 اور34 کے تحت درج مقدمہ نمبر577 کے مطابق اس کی والدہ وجیہہ فاروق سواتی جوامریکی نژاد خاتون ہیں پاکستان آمد پر انہیں ان کے شوہررضوان حبیب نے جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھا۔

رپورٹ ; (افتخار خٹک سے )

Exit mobile version