BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں فیڈرل بیوروآف انوسٹی گیشن(ایف بی آئی)کے سپروائزری سپیشل ایجنٹ اور مقتولہ کی وکیل و دیرینہ دوست کی شہادت قلمبند کر لی ہے جبکہ ملزمان کے وکیل نے استغاثہ کے2مزید گواہوں پر جرح بھی مکمل کر لی ہے جس کے بعد عدالت نے باقی گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے جمعہ کے روز سماعت کے وقت مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ ڈرائیور سلطان احمداور گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اس کے شوہریوسف مسیح کو پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر رہا شریک ملزم رشید احمد بھی عدالت میں موجود تھااس موقع پر ملزمان کے وکیل طلعت محمود زیدی بھی عدالت میں موجود تھے ملزمان کے وکیل نے عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ540کے تحت درخواست دی تھی کہ چونکہ مقتولہ کے موبائل فون ایف بی آئی کے سپروائزری سپیشل ایجنٹ کی تحویل میں دیئے گئے تھے جو انہیں امریکہ لے کر گئے اور بعد ازاں عدالت میں جمع کروائے لہٰذا عدالت میں ان کا بیان ضروری ہے عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ایف بی آئی کے نمائندے کا بیان قلمبند کیا اسلام آباد امریکی سفارتخانے میں ایف بی آئی کے سپروائزری سپیشل ایجنٹ /اسسٹنٹ لیگل اٹیچ امبر ٹیری نے استغاثہ کے20گواہ کی حیثیت سے عدالت کے روبرو بیان میں موقف اختیار کیا کہ 8اپریل2022کو پیلے پیکٹ میں بند 4موبائل فون اس کی حوالے کئے گئے اس طرح چارونں موبائل کی موجودگی کی تصدیق کے لئے یہ پیکٹ عدالت کے سامنے کھولا گیااس طرح 1آئی فون،1نوکیا فون اور2سام سنگ موبائل فونز پر مشتمل یہ پیکٹ دوبارہ عدالت میں ہی سیل کیا گیا اور میں نے یہ پیکٹ12اپریل کو موبائل کا یہ پیکٹ امریکی ریاست کوینٹیکو ورجینا میں واقع ایف بی آئی لیب میں جمع کرا دیااور18اپریل کو یہ موبائل دوبارہ وصول کرنے کے بعد 23اپریل کو معزز عدالت میں جمع کرا دیئے اور مقدمہ کے تفتیشی سے 7مئی کو بیرونی ہارڈ ڈرائیووصول کی موبائل فونز کی میرے پاس موجودگی کے دوران اس میں کسی قسم کی کوئی ٹمپرنگ نہیں کی گئی اس موقع پر ملزمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ آج وہ ہارڈ ڈرائیو عدالت میں موجود نہیں ہے جبکہ یہ3ہارڈ ڈرائیو تھیں جن میں اوریجنل تفتیشی افسر کے لئے تھی اور1،1کاپی پراسیکیوشن اور لیگل اٹیچ کے لئے تھیں مقتولہ کی وکیل شبنم نواز نے استغاثہ کے21گواہ کی حیثیت سے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ وہ ایبٹ آباد سے تعلق رکھتی ہے جبکہ مقتولہ وجیہہ سواتی کا تعلق بھی ایبٹ آباد سے ہے جو میری دوست اور میری بڑی بہن کی کلاس فیلو تھی پاکستان آمد سے2روز قبل وجیہہ نے اسے اطلاع دی کہاپنے شوہر رضوان حبیب کے ساتھ پراپرٹی کے بعض ایشوز کی وجہ سے وہ پاکستان آرہی ہے تاکہرضوان حبیب اور اس کی والدہ کے ساتھ ان ایشوز کو حل کیا جا سکے رضوان کی والدہ ارفہ حریت نے پراپرٹی وجیہہ کے نام منتقل کرنے کے لئے گفٹ ڈیڈ اور(No Demand Certification) این ڈی سی پر مشتمل دستاویزات گزشتہ سال ستمبرمیں وجیہہ کو بھجوائے جبکہ میں وجیہہ کے پاکستان آنے اور اس کی رضوان حبیب کے ساتھ ڈیلنگ سے خوفزدہ تھی کیونکہ میرا گمان تھا کہ وہ وجیہہ کوطلاق دینا چاہتا تھا اور2020میں اس نے وجیہہ کو اس کے بچے سمیت گھر سے نکال دیاتھاوجیہہ اپنے بچوں کے ہمرا ایبٹ آباد مین اپنے آبائی گھر آئی اور یہاں رہنے لگی جس کے بعد وجیہہ نے میرے اور میرے سینئر کے ذریعے جائیداد سے متعلق ایک خوانگی دعویٰ دائر کیااس کے2یا 3ماہ بعد رضوان ھبیب نے وجیہہ کے بچوں کو اغوا کیا اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ قمر علی شاہ نامی ایک وکیل کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروائے اور یہ بھی دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے خلاف دائر دعویٰ عدالت سے واپس لے جس کے بعد وجیہہ اپنے بچے سمیت واپس امریکہ گئی اور بچے کو محفوظ کرنے کے بعد دوبارہ پاکستان آئی اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ164کے تحت سیشن جج ایبٹ آباد کے روبرو بچوں کے اغوا سمیت تمام صورتحال سے متعلق بیان ریکارڈ کروایا اس ھوالے سے تمام دستاویزات پہلے ہی مقدمہ کے تفتیشی افسر کو دی جا چکی ہیں اس طرح اپنے بھانجے کے ساتھ پاکستان آنے کے اگلے ہی روز وجیہہ لاپتہ ہو گئی وجیہہ کے بیٹے کی جانب سے اطلاع ملنے تک میں وجیہہ کے لاپتہ ہونے سے لاعلم تھی جس کے بعد میں نے وجیہہ کے بیٹے اور اہل خانہ کے کہنے پر مقدمہ درج کروایا اس طرح پاکستان میں کوئی اس مقدمہ کی پیروی کرنے والا نہیں تھا جس پر میں نیشنل کمیشن برائے خواتین سمیت مختلف افراد کوشامل کیااور سینٹ میں دفاع و داخلہ کی قائمہ کمیٹیوں کے سامنے کیس پیش کرنے کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بھی پیش کیااورگزشتہ سال2نومبرکو لاہور ہائی کورٹ میں حبس بیجا کی پٹیشن بھی دائر کیاس طرح اسی روز مقدمہ درج ہوا اور میں مقتولہ کے بیٹے کی طرف سے پولیس کو تفصیلات سے آگاہ کیااس موقع پر ملزمان کے وکیل نے علی ناز اور وقاص اعظم پرمشتمل استغاثہ کے2مزید گواہوں پر جرح بھی مکمل کر لی مقدمہ کی مزید سماعت 19جولائی کو ہو گی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

راولپنڈی(افتخار خٹک سے رپورٹ)

Exit mobile version