راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر کوجرم ثابت ہونے پر3مختلف دفعات کے تحت سزائے موت،مجموعی طور پر17سال قید اور7لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنای دی ہے عدالت نے مقتولہ کے سسر اور اس کے ڈرائیورپر مشتمل مقدمہ کے 2شریک ملزمان کو7،7سال قید اور 1لاکھ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ عدالت نے مقدمہ میں نامزد 3دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا ہے گزشتہ روز55صفحات پر مشتمل سنائے جانے والے فیصلے کے وقت مقدمہ کا مرکزی ملزم رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ ڈرائیور سلطان احمداور گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اس کے شوہریوسف مسیح کو پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر رہا شریک ملزم رشید احمد بھی عدالت میں موجود تھااس موقع پر ملزمان کے وکیل طلعت زیدی،ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر چوہدری محمد یوسف اور وقار سلطانی،نعمانہ بشیر،آمنہ اشرف پر مشتمل 3 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز کے علاوہ امریکی سفارتخانے کے سینئرافسران اور ایف بی آئی ٹیم کے ارکان بھی عدالت میں موجود تھے اس موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے عدالت نے اپنے فیصلے میں مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو قتل کی دفعہ پر موت کی سزا سنا دی عدالت نے مقتولہ کو قانونی ورثا کو 5لاکھ روپے بطور ہر جانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے عدالت نے دفعہ364کے تحت مقتولہ کے شوہر کو10سال قید اور1لاکھ روپے ہرجانہ اور دفعہ201کے تحت 7سال قید اور1لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے اسی طرح مقتولہ کے سسر حریت اللہ اور اس کے ڈرائیور سلطان احمد کو دفعہ 201کے تحت 7،7سال قید کی سزا سنائی ہے عدالت نے دونوں ملزمان کوحکم دیا ہے کہ مقتولہ کے قانونی ورثا کو 1لاکھ روپے فی کس ہرجانے کی مد میں ادا کریں عدم ادائیگی ہرجانہ کی صورت میں دونوں ملزمان کو مزید2،2ماہ قید بھگتنا ہوگی عدالت نے مقدمہ میں نامزد گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف، اس کے شوہر یوسف مسیح اور رشید احمد کو شک کا فائدہ دے کر مقدمہ سے بری کر دیا ہے وجیہہ سواتی کے قتل و اغوا کے مقدمہ میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی راولپنڈی پولیس کی معاونت کی تھی اس مقدمہ میں دوران ٹرائل مقدمہ کی 40سے زائد سماعتیں ہوئیں جبکہ امریکہ میں وجیہہ سواتی کا پوسٹمارٹم کرنے والے امریکی ڈپٹی میڈیکل ایگزامینرمیجر انتھونی ونسن اور غیر ملکیوں سمیت مجموعی طور پر30گواہوں کے بیان قلمبند کئے گئے یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقدمہ کے تمام گواہان کے بیانات کی ریکارڈ کی گئی جسے ایک یو ایس بی میں محفوظ کر کے فیصلے کا حصہ بنادیا گیاہے یاد رہے کہ وجیہہ فاروق سواتی گزشتہ سال16اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں اور پاکستان آنے کے بعد پراسرارطور پر لاپتہ ہو گئی تھیں جبکہ پولیس نے 25دسمبرکو ان کی نعش پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان پیزو کے علاقے میں ایک گھر سے برآمد کر لی تھی جنہیں گھر کے اندر گڑھا کھود کر دفن کیا گیاتھاجس پر تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا و قتل کے الزام میں گزشتہ سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365، 302، 201 اور 34کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261 کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھا وقوعہ کے2ماہ بعدگزشتہ سال 22دسمبر پولیس نے مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔
افتخار خٹک سے رپورٹ
