راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں ایف بی آئی کی فرانزک ایگزامینرنے ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت قلمبند کروا دی ہے جبکہ ملزمان کے وکلا نے مقدمہ کے2تفتیشی افسران پر پیر کے روز بھی جرح جاری رکھی عدالتی وقت ختم ہونے پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی پیر کے روز سماعت کے موقع پر مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ ڈرائیور سلطان احمداور گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اس کے شوہریوسف مسیح کو پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر رہا شریک ملزم رشید احمد بھی عدالت میں موجود تھا سماعت کے موقع پر ایف بی آئی کی فرانزک ایگزامینروکٹوریہ ٹین پینی (Victoria Tenpenny)نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں شہادت قلمبند کروائی اس موقع پر ملزمان کے وکلا نے استغاثہ کے اہم ترین گواہ مقدمہ کے تفتیشی ”ایچ آئی یو“ڈیپارٹمنٹ کے سب انسپکٹرغلام مرتضیٰ اور قتل کے انکشاف سے قبل؛ وجیہہ سواتی کے اغوا کے مقدمہ کی تفتیشن کرنے والے سب انسپکٹر سجاد پر جرح جاری رکھی تاہم عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث عدالت نے سماعت31اگست تک ملتوی کر دی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے
