راولپنڈی ; ایڈیشنل سیشن کورٹ نے بچوں سے زیادتی کرنے اور ان کی فحش ویڈیوز بنانے کے ملزم سہیل ایاز کو ایک مقدمے میں بری کردیا تاہم دوسرے مقدمات میں مجرم کی سزائے موت برقرار ہے۔
بچوں کی پورن وڈیوز بنانے اور ان سے زیادتی کے ایک کیس میں راولپنڈی کی سیشن کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج احسن محمود ملک نے جیل ٹرائل میں فیصلہ سنایا جس میں بچوں سے زیادتی اور پورن وڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کے مقدے میں ملزم سہیل ایاز کو بری کردیا گیا۔
واضح رہے کہ ملزم کو تھانہ روات کے ایک پورن وڈیو کیس میں سزائے موت بھی سنائی جاچکی ہے جس کی سزا تاحال برقرار ہے جب کہ دوسرے ایف آئی اے کیس میں ملزم کو آج عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا گیا ہے، یہ مقدمہ تھانہ ایف آئی اے سائبر ونگ نے 3 مارچ 2020ء کو درج کیا۔
مجرم معصوم اور کم عمر بچوں کو اغواء کر کے جبری بد اخلاقی کا نشانہ بناتا اور لائیو پورن وڈیوز نشر کرتا تھا، مجرم بچوں کو گفٹ اور پیسوں کا جھانسہ دے کر بھلا پھسلا کر اغواء کر کے اپنے ڈیرے لے جاتا تھا، سزا کے بعد مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
