راولپنڈی : ایشیاء کی سب سے بڑی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قیدیوں پر تشدد، کرپشن، منشیات فروشی ،کے الزام پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ صاحب نے اڈیالہ جیل کا ہنگامی دورہ کیا،قیدیوں سے ملاقاتیں کیں، قیدی جیل انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے قیدیوں نے سپرنٹنڈنٹ، اسسٹنٹ سپریڈنٹ اور دیگر اہلکاروں کے نام چیف جسٹس کو بتا دیے،
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید بارک2 کمرہ 6 کے حوالاتی شھاب نامی شخص نے ہائی کورٹ اسلام آباد اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں تشدد کی درخواستیں دائر کی تھی،
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ صاحب نے کہا تھا میں خود اڈیالہ جیل کا دورہ کروں گا،
چیف جسٹس نے دورہ کے دوران اڈیالہ جیل میں، بارک نمبر 1، بارک نمبر 2، منڈا خانہء، زنان خانہ، کا دورہ کیا، قیدیوں نے شکایات کے انبار لگا دیے،
ڈپٹی سپریڈنٹ ملک اکرم، اسسٹنٹ سپریڈنٹ حسرت، ہیڈ وارڈن منیر، وارڈن ملک طاہر ،وارڈن عامر ،وارڈن سبطین، وارڈن راحیل، سمیت 7 کو مطل کردیا گیا ہے، ان افسران اور اہلکاروں کے خلاف قیدیوں نے تشدد، کرپشن، منشیات فروشی کے الزامات عائد کیے تھے،
آئی جی جیل خانہ جات اور سپریڈنٹ جیل کی مبینہ ملی بھگت سے ایسے 27 اہلکاروں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے پنجاب کی مختلف جیلوں میں میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے، جن کے بارے میں کوئی شکایت نہیں تھی، سپریڈنٹ جیل چوہدری اعجاز اصغر کو شک تھا کہ اس پہلے جب یہ یہاں تعینات تھے، ان لوگوں کی شکایات کی وجہ سے مجھے اڈیالہ سے ٹرانسفر کر دیا گیا تھا،
آئی جی جیل خانہ جات نے سپریڈنٹ جیل چوہدری اعجاز اصغر، اور اسسٹنٹ سپریڈنٹ متاح کو بچا لیا ہے، متاح نامی اسسٹنٹ پوری جیل سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کر کے اعلی افسران تک پہنچاتا ے، اس کو پہلے بھی اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کرپشن کی وجہ سے ٹرانسفر کیا گیا تھا ، یہ پھر مبینہ ملی بھگت سے واپس آڈر کروا کر واپس آجاتا ے، جبکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے اسسٹنٹ سپریڈنٹ متاح کے خلاف کاروائی کرنے کے احکامات جاری کئے تھے،
اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر چوہدری ،اسسٹنٹ سپریڈنٹ متاعِ کے خلاف قیدی پھٹ پڑے کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے تھے ،
اڈیالہ جیل کے ہیڈ وارڈن منیر، وارڈن ملک طاہر، وارڈن راحیل، وارڈن عامر، وارڈن سبطین، پر بھی قیدیوں کی طرف سے تشدد، کرپشن، منشیات فروشی کے الزامات لگائے گئے ہیں،
رپورٹ : افتخار خٹک سے راولپنڈی
