راولپنڈی (افتخار خٹک) پولٹری کی خرید وفروخت سے وابستہ تینوں بڑی تنظیموں نے چکن کے سرکاری ریٹس کو پولٹری سے وابستہ تاجروں کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت و انتظامیہ ایک دن کے چوزے کی قیمت سے چکن کی مکمل تیاری تمام مراحل کے اخراجات کا جائزہ لے کر چکن کے ریٹ مقرر کرے یکطرفہ اور ظالمانہ پالیسیوں سے پولٹری سے وابستہ چھوٹے تاجر فاقہ کشی کا شکار ہوچکے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب صورتحال کا فوری نوٹس لیں ان خیالات کا اظہار پولٹری ریٹیلرز ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر و پنجاب کے کوآرڈینیٹر ظہیر عباس عباسی نے آل راولپنڈی چکن سیلرز ایسوسی ایشن کے اجلاس کے دوران کیا اس موقع پر پنجاب پولٹری ٹریڈرز ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری قاضی زاہد محمود اعوان اور چکن ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے علاوہ تاجروں راولپنڈی کے زونل عہدیداروں اور تاجروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ظہیر عباس عباسی صاحب نے کہا کہ دکاندار (چکن فروشوں) کے ساتھ انتہائی ظلم و زیارتی کی جا رہی ہے ہمیں 425 روپے میں خرید کر 383 روپے میں روپے میں فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور تاجروں کو مکمل طور پر غیر حقیقی ریٹ لسٹ دی جارہی ہے جسکی وجہ سے تاجروں کو عوام گراں فروش سمجھتی ہے جبکہ ہول سیلروں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ 1 دن کا چوزہ 180 روپے کا ہے اور 42 دن بعد کیسے ممکن ہے کہ اسے 383 روپے میں فروخت کیا جائے حکومتی و انتظامی احکامات کے بعد مجسٹریٹس بازاروں کے اندر کسی بھی دکاندار کی بات نہیں سنتے اور نہ صرف تاجروں کو گرفتار کر کے تھانے لے جاتے ہیں بلکہ دکانیں بھی سیل کردی جاتی ہیں اس طرح غریب اور چھوٹے دکانداروں کو طرح طرح سے تنگ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ظلم و زیارتی پر مبنی اس پالیسی سے تاجروں حکومت اور انتظامیہ کے درمیان نفرت پیدا کی جارہی ہے اور یہ سب کچھ سوچی سمجی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور کمشنر و ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی کہ
خدا را اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے بصورت دیگر چھوٹے احتجاج اور شٹر ڈاؤن پر مجبور ہو جائیں گے۔
راولپنڈی (افتخار خٹک) پولٹری کی خرید وفروخت سے وابستہ تینوں بڑی تنظیموں نے چکن کے سرکاری
