راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی قمر عباس تارڑ نے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں جرگے کے فیصلے کے تحت غیرت کے نام پر قتل ہونے والی نو بیاہتا لڑکی کے قتل میں نامزد 1 ملزم کو مزید 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے جبکہ دیگر 2 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا ہے مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹر شبیر حسین نے مقدمہ میں گرفتار قبرستان کمیٹی کے سیکریٹری سیف الرحمن خان، گورکن راشد محمود اور لوڈر رکشہ کے ڈرائیور خیال محمد کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر منگل کے روز دوبارہ عدالت میں پیش کیا تفتیشی افسر نے عدالت میں دئیے گئے الگ الگ پرچہ ریمانڈ میں مقتولہ کی میت کو قبرستان پہنچانے والے لوڈر رکشہ کے مالک خیال محمد کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ملزم انتہائی چالاک اور مضبوط اعصاب کا مالک ہے جس سے تاحال وقوعہ میں استعمال ہونے والا رکشہ برآمد نہیں ہو سکا لہٰذا ملزم کا مزید 5 روزہ ریمانڈ جاری کیا جائے جبکہ دیگر 2 ملزمان کے حوالے سے تفتیشی افسر کا موقف تھا کہ مذکورہ دونوں ملزمان سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے لہٰذا انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا جائے جس پر عدالت نے خیال محمد کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا اور ہدایت کی کہ یکم اگست کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے جبکہ دیگر دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ عدالتوں میں موسم گرما کی تعطیلات کے باعث دونوں ملزمان کو 12 اور 25 اگست کو عدالت میں پیش کیا جائے اس مقدمہ کے 6 مرکزی ملزمان یونین کونسل کے سابق وائس چیئرمین و مسلم لیگی رہنما و مقتولہ کے کزن عصمت اللہ خان، مقتولہ کے والد عرب گل، بھائی ظفر اللہ خان، شوہر ضیاء الرحمن، سسر صالح محمد خان عرف سلیم خان اور چچا سسر آمانی گل عرف مانی گل کو بھی عدالت 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے چکی ہے جنہیں دوبارہ یکم اگست کو پیش کیا جائے گا یاد رہے کہ ملزمان نے عصمت اللہ خان کی سربراہی میں ہونے والے جرگے میں غیرت کے نام سدرہ نامی لڑکی کو قتل کر کے لاش خفیہ طور پر دفن کر دی تھی اور بھانڈا پھوٹنے کے خوف سے لڑکی کے گھر سے فرار کا مقدمہ درج کروا دیا تھا تھانہ پیرودھائی پولیس نے 21 جولائی کو ضیاء الرحمن کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 اے کے تحت مقدمہ نمبر 926 درج کیا کہ رواں سال 17 جنوری کو سدرہ سے اس کی شادی ہوئی چند روز قبل 11 جولائی کو گھریلو مسئلہ پر دونوں میاں بیوی کا معمولی جھگڑا ہوا اور اسی رات گئے اس کی بیوی 10 تولے سونا اور ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر گھر سے بھاگ گئی سسرال سمیت ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے عثمان نامی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور وہ اس کے ساتھ بھاگ گئی ہے تاہم قتل کی اطلاع ملنے پر پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 311، 201 اور 109 کو شامل کیا تھا۔
راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی قمر عباس تارڑ نے تھانہ پیرودھائی
