BBC Urdu TV

راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی قمر عباس تارڑ نے تھانہ پیرودھائی

راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی قمر عباس تارڑ نے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی نو بیاہتا لڑکی کی قبر کشائی کے لئے 28 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے عدالت نے ہولی فیملی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے میڈیکل افسر مقرر کرے جو مقررہ تاریخ اور وقت پر حاضری یقینی بنائے عدالت نے میونسپل کارپوریشن کے چیف افسر کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ تاریخ پر قبر کشائی کے تمام انتظامات مکمل کریں جبکہ تھانہ پیرودھائی کے ایس ایچ او کو ہدایت کی گئی ہے کہ قبر پر سکیورٹی کے لئے کم از کم ایک کانسٹیبل تعینات کیا جائے عدالت نے مقدمہ میں گرفتار 3 ملزمان کو مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ 29 جولائی کو ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹر شبیر حسین نے تحریری درخواست میں استدعا کی کہ متوفیہ کی موت کا اصل سبب جاننے کے لئے قبر کشائی اور پوسٹمارٹم کی اجازت دی جائے کیونکہ 11 جولائی کو متوفیہ سدرہ اپنے دوست محمد عثمان کے ساتھ مظفر آباد گئی جس کا علم ہونے پر متوفیہ کا کزن و یونین کونسل کا سابق چیئرمین عصمت اللہ خان اور متوفیہ کا والد عرب گل وغیرہ 16 جولائی کو اس کو واپس لے آئے اور باہم صلاح مشورہ ہو کر اسے قتل کرنے کے بعد 17 جولائی کو اسے خفیہ طور پر پیرودھائی کے چھتی قبرستان میں دفن کر دیا اور بعد ازاں نشانات مٹانے کے لئے قبر بھی مسخ کر کردی گئی لہٰذا مقتولہ کی قبر کشائی اور پوسٹمارٹم کا حکم دیا جائے اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت کی جانب سے قانونی ورثا کو جاری نوٹسز کی تعمیل نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے گھروں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور وہ گرفتاری کے خوف سے فرار ہوچکے ہیں اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متوفیہ بھاگی نہیں اسے قتل کیا گیا ہے جس پر عدالت نے ضابطہ فوجداری کی سیکشن 176(2) کے تحت 28 جولائی کو صبح 10 بجے قبر کشائی کا حکم دے دیا دوران سماعت مقدمہ کے تفتیشی نے اس مقدمہ میں گرفتار قبرستان کمیٹی کے سیکریٹری سیف الرحمن خان، گورکن راشد محمود اور رکشہ ڈرائیور خیال محمد کو عدالت میں پیش کیا تفتیشی افسر نے عدالت میں دئیے گئے پرچہ ریمانڈ میں تینوں ملزمان کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اول الذکر دونوں ملزمان نے دوران تفتیش چونکہ قبر کی نشاندہی کی تھی اس وجہ سے قبر کشائی کے موقع پر ان کی موجودگی ضروری ہے جبکہ تیسرے ملزم سے وہ اپلائیڈ فار رکشہ برآمد کرنا ہے جس میں مقتولہ کی لاش قبرستان لائی گئی جس پر عدالت نے تینوں ملزمان کا مزید 3 روزہ ریمانڈ جاری کرتے ہوئے تفتیشی کو ہدایت کی کہ 29 جولائی کو تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے قبل ازیں تھانہ پیرودھائی پولیس نے 21 جولائی کو ضیاء الرحمن کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 اے کے تحت مقدمہ نمبر 926 درج کیا کہ رواں سال 17 جنوری کو سدرہ سے اس کی شادی ہوئی چند روز قبل 11 جولائی کو گھریلو مسئلہ پر دونوں میاں بیوی کا معمولی جھگڑا ہوا اور اسی رات گئے اس کی بیوی 10 تولے سونا اور ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر گھر سے بھاگ گئی سسرال سمیت ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے عثمان نامی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور وہ اس کے ساتھ بھاگ گئی ہے تاہم قتل کی اطلاع ملنے پر پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 311، 201 اور 109 کو شامل کیا گیا جس میں 3 ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ ایک درجن کے قریب ملزمان کو ابھی زیر تفتیش اور زیر مشاہدہ رکھا گیا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

Exit mobile version