راولپنڈی (افتخار خٹک) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے دھرنے کا آغاز کردیا حکومت اور جڑواں شہروں کی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک کی جانب مارچ اور دھرنے کی اجازت نہ دینے اور جڑواں شہروں کے داخلی راستوں پر کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کرنے کے پیش نظر جماعت اسلامی کے مجموعی طور پر ہزاروں کارکنان نے 3 بڑے مقامات پر دھرنے دے دئیے کارکنان نے راولپنڈی کے لیاقت باغ، فیض آباد اور 26 نمبر چونگی کے مقام پر مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دے دئیے جس سے جڑواں شہروں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جڑواں شہروں کے اہم مقامات کے علاوہ دھرنے کی جگہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی جبکہ دھرنے کی تیاری میں آئے کارکنان نے مرکزی شاہراہوں پر چٹائیاں بچھا کر ڈیرے ڈال لئے جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کی جانب سے جمعہ کی نماز کے بعد کارکنان کو لیاقت باغ میں جمع ہونے کی ہدائیت کی گئی تھی جہاں سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی پر پولیس اور انتظامی افسران نے آنہیں روک دیا سی پی او راولپنڈی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے ضلعی امیر عارف شیرازی اور پنجاب کے رہنما رضا احمد شاہ سے مذاکرات کئے تاہم پولیس کی جانب سے پیش قدمی کی اجازت نہ ملنے پر جماعت اسلامی نے لیاقت باغ مری روڈ پر دھرنا دے دیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سید عارف شیرازی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد اور موٹر وے چوک پر بھی مظاہرے چل رہے ہیں جبکہ یہاں لیاقت باغ میں بھی دھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اجازت ملنے تک کارکنان یہیں موجود رہیں گے اور قیادت کی جانب سے جاری احکامات تک دھرنا جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اعلان کے مطابق 300 یونٹ والوں کے بجلی کے بل فری کرے یہاں لوگ خود کشیوں پر مجبور ہیں کل بھی راولپنڈی میں ایک شخص نے خود کشی کی انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئی پی پیز کیساتھ معاہدے ختم کیئے جائیں حکومت غریب لوگوں کے بلوں میں سبسڈی دے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ جماعت اسلامی کی کمیٹی کیساتھ بیٹھ کر مذاکرات نہیں کرتی اسوقت تک دھرنا جاری رہے گا قبل ازیں سی پی او سید خالد ہمدانی نے امن و امان کے حوالے سے سکیورٹی و ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا اس موقع پر ایس ایس پی انوسٹیگیشن، ایس پی سی آئی اے، ایس پی سکیورٹی، ڈی ایس پی سٹی، اور دیگر افسران بھی ہمراہ تھے سی پی او نے شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات چیک کئے اور متعلقہ افسران کو ہدایات دیں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی پولیس کے تین ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹیز پر تعینات کئے گئے ہیں مری روڈ، میٹرو سٹیشنز اور دیگر اہم مقامات و تنصیبات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تمام سینئر افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر ڈیوٹی کو چیک اور بریف کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ چونکہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی کو بھی جلسے، جلوس، ریلی یا دھرنوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی قانون کی بالا دستی اور شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا فول پروف سیکورٹی اور موثر ٹریفک انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں دریں اثنا سی ٹی او راولپنڈی تیمور خان نے بھی شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا اور ٹریفک افسران کو ہدایت کی کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے متبادل راستوں پر چلایا جائے۔
راولپنڈی (افتخار خٹک) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر بجلی کی قیمتوں
