راولپنڈی (افتخار خٹک) ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی محمد طارق ایوب نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام سمیت مقدس ہستیوں کی توہین اور سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے کے مقدمہ میں نامزد 4 ملزمان کو الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم دیا ہے عدالت نے مختلف دفعات کے تحت چاروں ملزمان کو عمر قید کے ساتھ مجموعی طور پر 80 سال قید اور 52 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے ایف آئی اے سائبر کرائم نے 22 اکتوبر 2022 کو شیراز احمد فاروقی کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 اے ، 295 بی، 295 سی، 298اے، 109 اور 34 کے تحت مقدمہ نمبر 102 درج کیا تھا جس میں واجد علی، اشفاق علی ثاقب، سلیمان ساجد اور رانا عثمان کو ملزم نامزد کیا گیا تھا ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے فیس بک پر 4 مختلف آئی ڈیز کے ذریعے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام کے بارے میں گستاخانہ اور توہین آمیز مواد اپ لوڈ اور شئیر کیا اس مقدمہ میں مدعی کی پیروی راجہ عمران خلیل ایڈووکیٹ، چوہدری جمیل احمد چوہان، شہزاد رضا مبشر جبکہ ملزمان کی پیروی ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور فاروق احمد ایڈووکیٹ نے کی دوران سماعت ایف آئی کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ملک سکندر پیش ہوتے رہے گزشتہ روز ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے چاروں ملزمان کو 295 سی کے تحت سزائے موت اور 10 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنادی عدم ادائیگی جرمانہ پر ملزمان کو مزید 6/6 ماہ قید بھگتنا ہوگی عدالت نے چاروں ملزمان کو 295 بی کے تحت عمر قید، 295 اے کے تحت 10/10 سال قید اور 1 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے عدم ادائیگی جرمانہ پر ملزمان کو مزید 6/6 ماہ قید بھگتنا ہوگی اسی طرح عدالت نے چاروں ملزمان کو 298 اے کے تحت 3/3 سال قید اور 1 لاکھ روپے فی کس جرمانہ جبکہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے تحت 7/7 سال قید اور 1 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
راولپنڈی (افتخار خٹک) ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی محمد طارق ایوب نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ
