راولپنڈی (افتخار خٹک) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے نمبر1جج ملک اعجاز آصف نے جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں،
اہم تنصیبات، نجی و سرکاری املاک کے گھیراؤ جلاؤ اور پولیس افسران و اہلکاروں پر حملوں کے12 الگ الگ مقدمات میں تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری و سابق وفاقی وزیر عمر ایوب خان کی ضمانتیں کنفرم کر دی ہیں جبکہ عمر ایوب نے تمام مقدمات میں مختلف مالیت کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروا دیئے ہیں گزشتہ روز عمر ایوب اپنے وکلا ملک محمد فیصل، حسنین سنبل، عاقل خان، ثاقب رمضان اور چوہدری اعظم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے عمر ایوب کی عبوری ضمانتوں پر فریقین کے وکلا نے گزشتہ تاریخ پر بحث مکمل کر لی تھی تاہم گزشتہ روز عدالت نے ضمانتیں کنفرم کر دیں جس پر عمر ایوب نے تمام مقدمات میں ضمانتی مچلکے جمع کروا دیئے 19مارچ کو عدالت نے تھانہ سٹی پولیس کی استدعا پر عمر ایوب کے علاوہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور، شیریں مزاری،مراد سعید، مسرت جمشید چیمہ، شبلی فرازاور شہباز گل سمیت12ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے تاہم عمر ایوب سمیت بعض رہنماؤں کے عدالت میں پیش ہونے پر عدالت نے وارنٹ واپس لے لئے تھے یادرہے کہ عمرایوب کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمہ نمبر 708 کے علاوہ تھانہ سٹی کے مقدمہ نمبر 563،تھانہ کینٹ کے مقدمہ نمبر 836، تھانہ ریس کورس کے 759، تھانہ نیو ٹاؤن کے مقدمہ نمبر 2106، تھانہ صادق آباد کے مقدمہ نمبر 2076، تھانہ سول لائن کے مقدمہ نمبر 981، تھانہ وارث خان کے مقدمہ نمبر 914، تھانہ مورگاہ کے مقدمہ نمبر 397، تھانہ صدر واہ کے مقدمہ نمبر 744 اور تھانہ ٹیکسلا کے مقدمہ نمبر 940 میں نامزد کیا گیا تھادریں اثنا عدالت پیشی کے بعد میدیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ اسلام آباد کے صحافیوں کے ساتھ تواتر سے رابطہ رہتا ہے پریس کانفرنسز کے دوران سب سے ملاقات رہتی ہے لیکن راولپنڈی میں مقدمات کی نوعیت کی ایسی ہے کہ ہمارے تمام ساتھیوں کی کسی نہ کسی عدالت اور کچہری میں مصروفیت لگی رہتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جو لوگ تحریک انصاف چھوڑ کر گئے تھے ان کی واپسی کا فیصلہ صرف سابق چیئرمین ہی کریں گے انہوں نے کہا کہ گزشتہ جمعرات کو جیل میں ملاقات کے دوران سابق چیئرمین سے رابطہ ہوا تھا انہوں نے ہر قسم کی ڈیل کی نفی کرتے ہوئے قوم کو واضح کیا ہے کہ مجھے جتنا عرصہ بھی جیل میں رکھا جائے میں اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کر سکتا اور وہ اصول سرف آئین و قانون کی بالادستی ہے اور یہی پیغام پورے پاکستان کی عوام کے لئے ہے سابق چیئرمین ایک شفاف اور واضح مشن کو لے کر چل رہے اور وہ کسی قسم کی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے اور تحریک انصاف کی قیادت بھی اسی پر کاربند ہے کیونکہ ہمارا مینڈیٹ قوم کی امانت ہے اور ہم اس کا تحفظ کریں گے۔
