BBC Urdu TV

راولپنڈی (افتخار خٹک)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی عبدالرزاق کی ہدائیت پر 2رکنی کمیٹی نے بے سہارا

راولپنڈی (افتخار خٹک)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی عبدالرزاق کی ہدائیت پر 2رکنی کمیٹی نے بے

سہارا خواتین کے لئے شمس آباد میں واقع دارالامان پر مبنی تحقیقاتی رپورٹ سیشن جج کو بھجوا دی ہے جہاں سے یہ رپورٹ لاہور ہائی کورٹ کے ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل کو بھجوا دی گئی ہے جس میں دارالامان میں رہائش پذیر خواتین کی شکایات اور تحفظات کے تحت رہائشی کمروں میں نصب تمام کیمرے فوری طور پر ہٹانے،خواتین کو معیاری اور تازہ خوراک کی فراہمی، خواتین عملے کی تعیناتی سمیت متعدد اقدامات سے متعلق سفارشات کی گئی ہیں 2رکنی کمیٹی نے دارالامان کی سپرنٹنڈنٹ عائشہ لطیف، میڈیکل افسر آمنہ امتیازاور سائیکالوجسٹ تانیہ ناصراور5مرد ملازمین سمیت 11ملزمان کی حاضریاں چیک کرنے کے علاوہ پوری عمارت کا بھی معائنہ کیا اوردارالامان میں رہائش پذیر 13خواتین اور لڑکیوں مصباح، ہاجرہ، کرن، یاسمین، مہرین دختر یونس، ماریہ، بشریٰ پروین،مہرین دختر احسان الحق، حمیرا، شکیلہ، اقرا، کائنات اور عظمی کے بیانات ریکارڈ کئے کمیٹی نے دارالامان انتظامیہ کے بعض اقدامات کو تسلی بخش بھی قرار دیا سینئر سول جج (کرمنل ڈویژن)راولپنڈی وقار حسین گوندل اورسول جج صبا قمر پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے دارلامان کی تفصیلی انسپکشن کے بعد 11صفحات پر مشتمل با تصویررپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر خاتون کے رہائشی کمرے میں کیمرہ نصب کیا گیا ہے جبکہ دارالامان کی سکیورٹی پر ایک مرد اور دو خواتین پولیس اہلکار مامور ہیں مزید یہ کہ یہاں رہائش پذیر خواتین میں آگاہی کے علاوہ قانونی امداد کی ضرورت ہے تنہا خواتین کو 2یا 3کے گروپ کی شکل میں کمرے الاٹ کئے جائیں جبکہ جن خواتین کے ساتھ ان کے بچے ہیں انہیں الگ کمرے دیئے جائیں خواتین کے کمروں میں نصب کیمروں کی مانیٹرنگ خواتین سٹاف کے ذریعے کی جائے دارالامان کی انچارج کو ہدائیت کی گئی کہ خواتین کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کی خاطر کمروں میں نصب کیمرے فوری طور پر ہٹائے جائیں اورخواتین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کے لئے مجاز حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے انسداد مچھر و کھٹمل کے لئے فوری طور پر دارالامان میں سپرے کروایا جائے روز مرہ استعمال کی اشیا یہاں رہائش پذیر خواتین کو باقاعدگی سے فراہم کی جائیں اور یہاں مقیم خواتین سے نرم رویہ اختیار کیا جائے تازہ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں رہائش پذیر خواتین سے جب اجتماعی طور پرغیر معیاری خوراک اوررہائش سمیت دیگر درپیش مسائل پر تحقیقات کی گئیں تو بیشتر خواتین نے صرف مچھروں اور کھٹملوں کی شکائیت کی لیکن جب ان خواتین سے فردا فردا علیحدگی میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے بیڈ رومز میں کیمروں کی شکائیت کرتے ہوئے کہا کہ کیمروں کی تنصیب سے ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے لہٰذا ان کی محفوظ قیام کے لئے کیمرے ہٹائے جائیں اسی طرح ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں پر انتہائی غیر معیاری کھانا دیا جاتا ہے اور کسی بات پر آواز اٹھانے یا انچارک کی بات نہ ماننے پر کئی کئی گھنٹے بھوکا رکھا جاتا ہے اسی طرح جو مخیر حضرات یہاں دورے پر آکر رہائش پذیر خواتین کے لئے عطیہ دے کر جاتے ہیں وہ ان خواتین تک نہیں پہنچ پاتے جبکہ سٹاف کا رویہ بھی انتہائی نامناسب ہوتا ہے جبکہ لگ بھگ تمام خواتین سے استدعا کی کہ انہیں دارلامان سے فوری باہر نکلوایا جائے جس پر 3رکنی کمیٹی نے انہیں مجاز عدالتوں میں درخواست دائر نے کی ہدائیت کی 2 رکنی کمیٹی نے یہ دورہ راولپنڈی کے وکلا کی درخواست کی روشنی میں کیا گزشتہ دونوں دارالامان میں خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد چوہدری رضوان الہٰی ایڈووکیٹ،زیب فیاض بٹ ایڈووکیٹ،بشریٰ خان ایڈووکیٹ نے سیشن جج راولپنڈی کو تحقیقات کے لئے درخواست دی تھی۔

Exit mobile version