راولپنڈی (افتخار خٹک)سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا نے موضع کٹاریاں ٹھلیاں میں غیر قانونی تعمیرات پر تحریک انصاف کے رہنما و رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کردیئے ہیں عدالت نے یہ وارنٹ ملزم کے عدالت میں پیش ہوجانے اور وارنٹ کی منسوخی کے لئے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے معطل کئے شیر افضل مروت نے سید یاسر حسین شاہ ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد عدالتی اہلکار نے بتایا تھا کہ چونکہ ابھی تک چالان عدالت میں نہیں آیا جس کے لئے درخواست گزار کی پیشی کی ضرورت نہیں ہے چالان آنے کی صورت میں بذریعہ سمن درخواست گزار کو مطلع کردیا جائے گا جس کے بعد درخواست گزار بیرون ملک چلا گیا اور غیر موجودگی میں وارنٹ جاری کر دیئے گئے جبکہ درخواست گزار کی عدالت سے غیر حاضری کسی طور بھی قصداً یا عمدا نہیں ہے لہذا عدالت یہ وارنٹ منسوخ کرنے کا حکم دے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر شیر افضل مروت اپنے وکیل سید یاسر حسین شاہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد درخواست منظورِ کر لی عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ درخواست گزار از خود عدالت میں پیش ہوگیا ہے جس پر عدالت نے وارنٹ معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست گزار پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 30 جولائی کو سماعت کے لئے عدالت میں حاضری یقینی بنانے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے 12 دسمبر 2019 کو پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 کی سیکشن 34-Bکے تحت شیر افضل مروت کا چالان کیا تھا جس میں الزام تھا کہ شیر افضل مروت نے موضع کٹاریاں ٹھلیاں میں اپنی حدود سے تجاوز کر کے سڑک پر غیر قانونی رکاوٹ کھڑی کی اور نقشے کی منظوری کے بغیر نہ صرف غیر قانونی تعمیرات کیں بلکہ آؤٹ پلان سکیم کی غیر قانونی تجارتی بکنگ بھی شروع کر رکھی ہے لہٰذا ملزم کو ہدائیت کی جائے کہ موقع پر غیر قانونی ڈویلپمنٹ اور تجارتی بکنگ فوری طور پر بند کرے اور آر ڈی اے سے غیر قانونی ڈویلپمنٹ اور تجارتی بکنگ کو ریگولائز کروائے۔
راولپنڈی (افتخار خٹک)سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا نے موضع کٹاریاں
