راولپنڈی (افتخار خٹک)سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ محمد ممتاز ہنجرا نے موٹر وے پولیس کے ساتھ جھگڑے میں گاڑی بھگانے کے دوران پولیس اہلکار کو گاڑی کی ٹکر لگنے کے مقدمہ میں گرفتار خاتون کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی ہے فرح زہرہ نامی خاتون کی جانب سے ان کے وکلا شاہ خاور اور بابر حیات نے عدالت میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست میں موقف اختیار کیا
کہ خاتون ہونے کے ناطے درخواست گزار ریلیف کی حقدار ہے جبکہ اس پر کسی بھی طور اقدام قتل کی دفعہ 324نہیں عائد ہوتی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے درخواست کی مخالفت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے دوران ڈیوٹی ایک پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی کوشش کی جس وجہ سے درخواست گزار کسی رعائیت کی مستحق نہ ہے لہٰذایہ درخواست خارج کی جائے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ چونکہ تحقیقات کے دوران بھی درخواست گزار قصور وار پائی گئی اور درخواست گزار نے پولیس کے فرائض میں رکاوٹ بن کرقانون کی صریحا خلاف ورزی کی اور بادی النظر میں واضح ہے کہ پولیس اہلکار کو کچلنے کی کوشش کوئی اچانک یا حادثاتی نہیں بلکہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا جبکہ عدالت میں پیش ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کے خلاف یہ مواد کافی ہے لہٰذا درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے یاد رہے کہ تھانہ نصیر آباد پولیس نے موٹر وے پولیس کی مدعیت میں رواں سال2جنوری کوتعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 353، 186، 337-F(i)، 337-Q،279اور427کے تحت مقدمہ نمبر 9درج کیا تھا خاتون پر الزام تھا کہ اس نے گاڑی بھگانے کے دوران پولیس اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی۔
