BBC Urdu TV

راولپنڈی (افتخار خٹک)انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے نمبر1جج ملک اعجاز آصف

راولپنڈی (افتخار خٹک)انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے نمبر1جج ملک اعجاز آصف نے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں، اہم تنصیبات، نجی و سرکاری املاک کے گھیراؤ جلاؤ اور پولیس افسران و اہلکاروں پر حملوں کے مقدمہ میں نامزدوزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور، شیریں مزاری،مراد سعید، مسرت جمشید چیمہ، شبلی فرازاور شہباز گل سمیت12ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں اور 2 اپریل کو تمام ملزمان کو گرفتارکر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے یہ وارنٹ تھانہ سٹی پولیس کی تحریری درخواست پر جاری کئے ایس ایچ او تھانہ سٹی آفتاب احمد نے پیر کے روزعدالت میں تحریری درخواست میں کرنل (ر)شبیر اعوان، مسرت جمشید چیمہ، مراد سعید، شبلی فراز، شہباز گل، علی امین گنڈا پور، شیریں مہرالنسا مزاری، سعد جمیل عباسی، عاصم رحمان بھٹی، خادم حسین کھوکھر اور شیخ سعد بن عارف کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ ملزمان میں سے کرنل (ر)شبیر اعوان، مسرت جمشید چیمہ اورشبلی فراز کو گزشتہ سال11نومبر کو چیف سکیورٹی افسر راولپنڈی کے بیان کی روشنی میں ملزم نامزد کیا گیا ہے جبکہ علی امین گنڈا پور، شیریں رحمان، شہباز گل اور مراد سعید سمیت دیگر ملزمان کو رواں سال 17جنوری کو سابق اراکین اسمبلی صداقت عباسی، واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر بٹ کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ164کے تحت ریکارڈ بیانات کی روشنی میں نامزدکیا گیا ہے جبکہ شیخ سعد بن عارف نامی ملزم گرفتاری کے خوف سے دیدہ دانستہ روپوش ہے لہٰذا عدالت مذکورہ12ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے تاکہ ملزمان کی گرفتاری عمل مین لاکر مقدمہ کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے تمام ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے یاد رہے کہ تھانہ سٹی کے ایس ایچ او آفتاب احمد کی مدعیت میں گزشتہ سال10مئی کوانسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 440، 427،436 ،353 ،186 ،147،148 اور 149 سمیت 26سے زائد دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 563درج کیا گیا تھا جس کے متن کے مطابق ایس ڈی پی او سٹی سردار بابر ممتاز،ایس ڈی پی او وارث خان مرزا طاہر سکندر اور پولیس نفری کے ہمراہ لیاقت باغ میں امن و امان کی ڈیوٹی پر موجود تھے کہ سابقہ اراکین اسمبلی عمر تنویر بٹ، راجہ راشد حفیظ، اعجاز خان جازی، شیخ معاد بن عارف، راجہ ہارون الرشید، عاطف قریشی، ہاشم خان، احسن گجر، صباح قریشی اورعبید ناصر محمود عرف ناصر گوروسمیت56افرادکی قیادت میں 200/250نامعلوم افراد نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس خدمت مرکز ریسکیو15کے عقبی حصہ کو نذر آتش کیا میٹرو بس سٹیشن سمیت دیگر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا ٹائر اور دیگر سامان جلا کر مری روڈ کو بلاک کیا جب انہیں منتشر ہونے کو کہا گیا تو انہوں نے اپنی قیادت کی ایما پر آتشیں اسلحہ، ڈنڈوں، لاٹھیوں اور پتھروں سے پولیس افسران و ملازمین پر حملہ کر دیاجنہوں نے اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے پولیس پر قاتلانہ حملہ کیاجس سے ایس ڈی پی او وارث خان سرکل مرزاطاہر سکندر، ایس ایچ او تھانہ رتہ امرال چوہدری ریاض، تھانہ سٹی کے اے ایس آئی ریحان خالد اورتھانہ بنی کا ہیڈ کانسٹیبل عبدالقدیر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ایف آئی آر کے مطابق ملزمان تحریک انصاف کی قیادت کی ایما پر پر تشدد احتجاج کرتے ہوئے خلاف قانون مجمع کے مرتکب ہوئے میٹرو سٹیشن سمیت دیگر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا کار سرکار میں مزاحمت کر کے پولیس افسران و ملازمین کو زخمی کیا اور فائرنگ کر کے شدید خوف وہراس پھیلایا۔

Exit mobile version