راولپنڈی(۔افتخار خٹک)سٹی سینٹر صدر میں شرمناک واقعہ: جمعہ کے مقدس دن ایک لڑکی نے شرمگاہ پر ٹیٹو بنوانے ائی اور شیزی نامی لڑکا دروازہ بند کر کے ٹیٹو بنانا شروع کر دیا،لڑکی کی شلوار اتری ہوئی تھی ایک دکاندارکوئی کام پڑ گیا تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا جس پہ اس نے مارکیٹ کے دکانداروں کو بتایا تو ہنگامہ اور مارکیٹ کی دکاندار اکٹھے ہو گئے
واقعے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سٹی سینٹر کے تاجروں اور خریداروں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کئی دکانداروں اور شہریوں نے اس غیر اخلاقی حرکت جس پہ شور مچایا کیا اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
عینی شاہدین کے مطابق، واقعہ جمعہ کے دن اس وقت پیش آیا ایسے میں اس قسم کی بے حیائی کا ارتکاب معاشرتی اور مذہبی اقدار کے منہ پر طمانچہ سمجھا جا رہا ہے۔ لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، جہاں شرعی و اخلاقی قوانین کی پابندی لازم ہے، وہاں ایسے کاروبار کو کون اجازت دے رہا ہے؟
شہر کی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی خاموشی پر بھی سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو ایسے غیر اخلاقی رجحانات مزید فروغ پائیں گے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مذہبی ادارے فوری طور پر کارروائی کریں اور ایسے تمام کاروباروں کو بند کیا جہاں بے بےحیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
