راجہ تسلیم احمد کیانی جنرل سیکرٹری سرجلال خان ویلفیئر کونسل کرونٹہ جھرنا کی آج میلہ منسوخی کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کی
سوہاوہ (بابر کیانی)تفصیلات کے مطابق راجہ تسلیم احمد کیانی جنرل سیکرٹری سر جلال خان ویلفیئر کونسل کرونٹہ جھرنا نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں چند حقائق بیان کرنا چاہتا ہوں 115 سال سے یہ جشن بہاراں عرس میلہ حضرت بابا شہجہان چشتی بمقام کرونٹہ سکندرال تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم منعقد ہو رہا ہے اور اس کی باقاعدہ منظوری ڈپٹی کمشنر جہلم کے ریفرنس سے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ سے حاصل کی گئی میلہ21 20 19 18 بروز بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار اس کے مطابق منظوری لی گئی منظوری لینے کے بعد ہم نے باقاعدہ پروگرام ترتیب دیے جس میں عرس کی تقریبات میں غسل تھا لنگر تقریر کبڈی بیل دوڑ والی بال ٹورنامنٹ بھگدڑ مقابلہ بھی شامل تھے کل سے میلے کا آغاز ہو چکا ہے کل تھانہ سوہاوہ سے کال آئی کے والی بال میچ کے بارے میں بات کرنی ہی آپ آئیں میں حاضر ہوا اور دونوں فریقین کے درمیان ایس ایچ او کی موجودگی میں معاہدہ طے پایا گیا اس سے پہلے بھی دوسری پارٹی کے ساتھ باہمی مشاورت سے میلے کے بارے میں ڈسکس ہوتی تھی اگٹھے میلہ کرواتے تھے اس بار جب میٹنگ بلوائی گئی تو جھرنے والے نہیں آئے اور نہ آنے کی وجہ سے ہماری کمیٹی کے ممبران مذاکرات کے لیے گئے مذاکراتی ٹیم معاملات طے نہ کر سکے اور وہ واپس آگئے مجھے بہت افسوس ہوا انہوں نے کہا کہ اس بار میلہ نہیں ہونے دیں گے آپ نے جو کرنا ہے وہ کر لیں ہم لوگوں نے منظوری کے بعد تمام پروگرام ترتیب دیے ہوئے تھے اس کے بعد کل اسسننٹ کمشنر سوہاوہ کے دفتر سے مجھے نعیم نامی بندے کا فون آیا تھا کہ آپ اسسننٹ کمشنر کے دفتر آجائیں میں دفتر آ گیا دوسری طرف سے بھی بندے آئے ہوئے تھے ہمارے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ والی بال ٹورنامنٹ کیلیے دو ٹیمیں دوسری پارٹی دے گی اور دو ٹیمیں ہم دے گے اور ہم نے رضامندی ظاہر کی اور انکا یہ مطالبہ تھا کہ ہم الگ والی بال ٹورنامنٹ کروائے گے۔ ہمارے لوگوں نے گراؤنڈ بھی تیار کیے ہو تھے اس کے بعد کل پھر ایک اپلیکیشن دے دی گئی کبڈی علیحدہ کروانا چاہتے ہیں میں نے اسسٹنٹ کمشنر صاحب سے کہا کہ سر یہ منظوری آپ کی طرف سے ہو چکی ہیں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ مل کر یہ میلہ کروائیں تین گھنٹے یہ بحث و مباحثہ ہوتا رہا اور پھر ہم یہ بھی شرط ان کے سامنےمان گئے کہ ایک ہی دن کبڈی اور بیل دوڑ اس کے بعد ایس ایچ او سوہاوہ نے اپنے ہاتھوں سے یہ معاہدہ لکھا اور دونوں فریقین کے سائن کروائے بھائی میں نے کہا اسسٹنٹ کمشنر صاحب کی منظوری پہلے بھی ہو چکی ہے پھر بھی ہم نے ان کی شرط قبول کر لی معاہدہ طے کرنے کے بعد ہم گھر چلے گئے ہیں اور جشن بہاراں میلے کی تیاریاں شروع کر دی۔ رات کو نعیم نامی بندے نے کہا آپ کے پاس منظوری کا لیٹر ہے وہ مجھے بھیج دیں اور میں نے بھیج دیا اس کے بعد رات کو پولیس ملازم میرے گھر نوٹس دینے پہنچا کہ آپ میلہ نہیں کروا سکتے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے ہیں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے آپ کی منظوری کی کینسل کر دی گئی ہے تعمیر کروائی گئی اب تک ہمیں نہیں پتہ چلا کہ تمام باتیں انتظامیہ نے ہم سے منوانے کے بعد بغیر کوئی وجہ بتائے منسوخ کیوں کیا میں انتظامیہ سے پوچھتا ہوں کہ یہ جو دوکاندار دور دراز علاقوں سے روزی کمانے آئے ہوئے ہیں ان کا کیا قصور ہے اور تمام دکاندار رو رہے ہیں ہم سالوں سے آ رہے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے روزی کما کر لے جا رہے ہیں لیکن انتظامیہ نے میلہ کینسل کر کے ہمارے بچوں سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے میں ایک اور بات کرنا چاہتا ہوں ہمارے سیاسی کچھ دوست ہیں انہوں نے آڈیو میسج کیا ہے میں نے سنا ہے میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا انہوں نے کہا ہے میرے بارے میں بھی میرا ہی بولڈ میلے پر ہے اور ان کی وجہ سے میلہ کینسل ہوا ہے میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے تمام میلہ پروگرام میں دوسری پارٹی کو شامل کیا ہے۔مجھے بتایا جائے میرا قصور کیا ہے۔اب بھی میں تیار ہوں آپ آئیں میرے ساتھ بات کریں میلہ کروائیں مجھے دکھ ہوا یہ آڈیو میسج سن کر آپ نے ایک طرف سے سنا ہے میرے آپ کے ساتھ پرانے تعلق ہیں آپ کو نہیں پتہ حقائق کچھ اور ہیں شرارت کوئی اور کر رہا ہے نشانے پر ہم ہیں میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ آپ نے ہم سے تمام شرائط منوا کر اب میلے کو انتظامیہ کینسل کر رہی ہے۔میلہ کینسل نہ کریں بلکہ میلہ ہونے دیں۔راجہ تسلیم احمد کیانی صاحب نے مزید کہا جو کچھ ہوا ہے اسکا دکھ ہے یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
