راجہ بازار پارکنگ پلازہ اچانک خالی کرانے پر ٹھیکیدار کا بڑا بیان سامنے آگیا
عدالتی حکمِ امتناع کے باوجود کارروائی کیوں ہوئی؟ ٹھیکیدار نے سوال اٹھا دیا
پارٹنرشپ سے انکار کے بعد نوٹس ملا، ٹھیکیدار کا دعویٰ
اصل ٹھیکہ سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا، ٹھیکیدار کا مؤقف
چھ سال میں ادارے کا ایک روپیہ بھی واجب الادا نہیں رکھا، ٹھیکیدار
پلازہ خالی کرانے کے معاملے پر متعلقہ تھانے میں بھی درخواست جمع
راجہ بازار پارکنگ پلازہ تنازع، معاملہ مزید سنگین ہوگیا
راولپنڈی (افتخار خٹک)
راولپنڈی: راجہ بازار پارکنگ پلازہ کو اچانک خالی کرانے کے معاملے پر سابق ٹھیکیدار کا تفصیلی مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ ٹھیکیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ عدالتی حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) موجود ہونے کے باوجود پلازہ خالی کرایا گیا، جو ان کے بقول قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ تھانے میں بھی درخواست جمع کرا دی ہے۔
ٹھیکیدار کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً چھ برس سے پارکنگ پلازہ کا ٹھیکہ چلا رہے تھے اور اس عرصے کے دوران انہوں نے ادارے کا کوئی واجب الادا بقایا نہیں چھوڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام سرکاری واجبات اور اقساط باقاعدگی سے ادا کیں جبکہ جس ٹھیکے کی مالیت پہلے دو سال کے لیے ایک کروڑ تینتیس لاکھ روپے تھی، وہی انہوں نے کھلے مقابلے میں ایک سال کے لیے تین کروڑ اکتیس لاکھ روپے کی بولی پر حاصل کیا، جس سے ادارے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔ٹھیکیدار نے دعویٰ کیا کہ موجودہ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے چند روز بعد ان کے شوہر کے ایک قریبی عزیز نے انہیں پارٹنرشپ کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر انہیں کاروبار میں شریک کر لیا جائے تو آئندہ بھی یہی ٹھیکہ دلوانے میں مدد کی جائے گی۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اس تجویز سے انکار کیا تو چند روز بعد انہیں نوٹس جاری کر دیا گیا۔انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ تین کروڑ اکتیس لاکھ روپے مالیت کے ٹھیکے کے مقابلے میں انہیں مبینہ تاخیر کی بنیاد پر چار کروڑ تراسی لاکھ روپے سے زائد جرمانے کا نوٹس جاری کیا گیا، جو ان کے بقول غیر متناسب اور غیر منصفانہ ہے۔ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران لاک ڈاؤن، امن و امان کی صورتحال، دھرنوں اور دیگر سرکاری پابندیوں کے باعث متعدد مرتبہ پلازہ بند رہا، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم اس دوران نہ کوئی رعایت دی گئی، نہ کمپنسیشن ادا کی گئی اور نہ ہی نقصانات کا ازالہ کیا گیا۔ٹھیکیدار نے مطالبہ کیا ہے کہ راجہ بازار پارکنگ پلازہ خالی کرانے، عدالتی حکمِ امتناع کے باوجود کی جانے والی کارروائی اور جرمانوں کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔دوسری جانب خبر فائل ہونے تک آر ڈی اے یا متعلقہ حکام کا اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ان کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی مناسب اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
