دین اسلام میں بعثت رحمت عالم ﷺ سے لے کر قیام قیامت تک کسی بھی قوم اور کسی بھی زمانے کے لیے ہر سوال کا جواب موجود ہے اورآپ ﷺ کی ذات اقدس سے ہر طرح کی راہنمائی ملتی ہے۔حق اور باطل واضح ہو گئے۔جو معاملہ اسلام کی حدود سے باہر ہوگا وہ معاشرے میں نفرت اور فساد کا سبب بنے گا اگر نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہو تو اس معاملے سے معاشرے میں خیر اور بھلائی پیدا ہو گی۔دین اسلام کا ہر حکم انسانی ضرورت کی تکمیل ہے دین اسلام حیا کا درس دیتا ہے جبکہ اسلام دشمن عناصر اس کام پر لگے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کیسے پھیلائی جائے۔بے حیائی ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہو چکی ہے کہ اشتہارات اور ٹی وی پروگرامز کے علاوہ جگہ جگہ بل بورڈز پر بے حیائی نظر آتی ہے اشتہار کسی اور چیز کا ہوتاہے اور اس میں خواتین کو اشتہار کے طورپر دیکھایا جاتا ہے اور الفاظ کا چناؤ بھی ایسا ہو گا کہ جس سے معاشرے میں بے حیائی پھیلے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ دین اسلام پر عمل کرنے کے لیے دین اسلام کے علوم جاننا بھی ضروری ہیں۔ اللہ کریم نے معاشرتی زندگی میں جو حدودو قیود مقرر فرمائی ہیں ان کا خیال رکھا جائے۔ لذت انسانی اور تسکین نفس کو لے کر جب کوئی چلتا ہے اپنا بھی نقصان کرتا ہے اور مخلوق کے نقصان کا بھی سبب بنتا ہے اگر یہی تکمیل حدودشرعی کے اندر ہو تو خود بھی فائدے میں رہتاہے اور مخلوق کو بھی تکلیف نہیں پہنچتی۔معاشرے میں بھی بہتری آتی ہے۔اگر کوئی دنیا کے معاملے میں توجہ نہیں رکھتا دھیان نہیں دیتا تو اس کام میں وہ نقصان اٹھاتا ہے اگر غفلت کے اسی پہلو کا اطلاق ایمان پر کیا جائے کہ بندگی کی کیفیت میں جس درجہ کی غفلت آئے گی اس درجہ کی خطا کا امکان بڑھتا جائے گا۔یاد الٰہی بندے کو غفلت سے نکال دیتی ہے جتنا بھی کوئی غافل ہو جب اللہ کی یاد میں محو ہوتا ہے یہ ایسا نور ہے جس سے کسی درجہ کا بھی اندھیرا نہیں رہتا یہ جو شب و روز گزر رہے ہیں ان کو دیکھنے کی ضرورت ہے جو قوت،عقل اور شعور اللہ کریم نے ہمیں دیا ہے ہم اس کا استعمال کیسے کر رہے ہیں جو غلطی اور کمزوری ہے اس چھوڑ کر اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے وہ خالق اور مالک ہیں وہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔
اللہ کریم صحیح شعورعطافرمائیں آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
رپورٹ : راجہ فیصل کیانی بیورو چیف پنجاب
