BBC Urdu TV

دہشت گردی کے خلاف جنگ،ایک قومی فریضہ! انجینئر ندیم ممتاز قریشی

دہشت گردی کے خلاف جنگ،ایک قومی فریضہ!
انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز 1980ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران ہوا، افغان جہاد کے بعد پاکستان بھر میں مختلف شدت پسند تنظیموں نے منظم شکل اختیارکی اور نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو خودکش حملوں، بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس نے نہ صرف ملکی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا یا بلکہ ہزاروں معصوم جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ایک رپورٹ کے مطابق سال 2001ء سے لے کر 2024ء تک پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے تقریبا83 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اس میں 23ہزار 372سویلین،9ہزار 6سو 19سیکورٹی اہلکار اور50ہزار سے زائد دہشت گرد لقمہ اجل بنے۔ 2001 ء سے 2024ء تک دہشت گردی کے باعث پاکستان کو 150 بلین ڈالرزسے زائد کامعاشی نقصان ہوا۔یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جو ملک کے تمام حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ پاراچنار اور کرم ایجنسی جیسے علاقے اس کی واضح مثال ہیں، جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی اور دہشت گردی کے واقعات نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاراچنار میں متعدد حملے ہوئے، جن میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ایسے واقعات کے پیچھے شدت پسند تنظیموں کی موجودگی ہے اس کے ساتھ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر واقع دو ممالک پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور سازشوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ امریکا، بھارت اور دیگر ممالک کے اس خطے کے حوالے سے مفادات کسی سے پوشیدہ نہیں، بھارت کی پاکستان دشمنی پوری دنیا پر عیاں ہے وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں پوری طرح ملوث ہے، جس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔بھارت اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے پاکستان میں دہشت گردوں کی ہر قسم کی معاونت کر رہا ہے، اس بارے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا پیش کردہ ڈوزیئر موجود ہے جس میں تمام تفصیلات شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ درج ہیں لیکن افسوس ابھی تک اقوام متحدہ نے بھارت کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جب کہ وہ آج بھی پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔گزشتہ سال میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ 9 سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔ سال 2024 کے دوران 2023 کے مقابلے میں 66 فی صد سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور اوسطاً روزانہ تقریباً سات جانیں ضائع ہوئیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2024 ء میں نومبر دیگر تمام مہینوں کے مقابلے میں مہلک ترین ثابت ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں تشدد کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے ہیں جہاں 1616 اور بلوچستان میں 782 اموات ریکارڈ کی گئیں۔سال2024 میں 1166 دہشت گردانہ حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی مجموعی طور پر 2546 اموات ہوئیں جبکہ مجموعی طور 2267 افراد زخمی ہوئے۔دوسری جانب پارا چنار جوکہ صوبہ خیبر پختونخوا کا علاقہ ہے، وہاں فرقہ وارانہ فسادات اور صوبائی حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے صحت کے مراکز کی ابتر صورتحال کی بدولت 150 سے زائد معصوم بچے جان بلب ہوئے ہیں کیونکہ صحت کے مراکز میں ادویات اور ڈاکٹرزکا فقدان ہے جب کہ فرقہ واریت کے باعث 100 سے قریب افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں مگر کے پی کے کی حکومت کو ذرا سی بھی پرواہ نہیں رہی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس رقم نہیں ہے۔حالیہ آڈٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 152 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس میں 13.2 کروڑ روپے کی فراڈ ادائیگیاں شامل ہیں۔ ہیرا پھیری کرتے ہوئے فرضی کمپنیاں بنا کر اشتہارات کی مد میں پیسہ سوشل میڈیا ٹیم کو دیا جارہا ہے جو ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے ملنے والے صوبائی بجٹ کی رقم میں سے 84 ارب کی رقم وفاق پرچڑھائی کے لیے استعمال ہوئی ہے، مگر پارا چنار لہو لہو ہے، بلوچستان کی طرح وہاں بھی حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آرہی ہے۔
دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وجوہات میں بے روزگاری، وسائل کی کمی، اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان شامل ہیں۔ ملک میں تعلیم اور صحت کے ناقص نظام نے نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کا آسان ہدف بنا دیا ہے۔ ہر سال تقریباً 10,000 افراد غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جو نہ صرف ملک کی سماجی و اقتصادی صورتحال کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مقامی مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔کرم ایجنسی میں جاری کشیدگی اور دہشت گردی کے پیچھے ایک اہم وجہ فرقہ واریت ہے، جسے شدت پسند عناصر اپنے مفادات کے لیے ہوا دیتے ہیں۔ مقامی افراد کو ان مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا اورحکومت کو دہشت گردی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی، جہاں دہشت گردوں کو ”ہیرو“ بنا کر پیش کیا جاتا ہے،کسی حد تک قابل اطمینان بات یہ ہے کہ دنیا پرکسی حد تک یہ واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثر ملک ہے، دہشت گردی کے حوالے سے اس جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے، مگر یہ اعتراف کافی نہیں ہے، ہمیں اپنے بچاؤ کے لیے سخت قوانین اورحکمت عملی مرتب کرکے انھیں فوری نافذ العمل بنا کر ان پر عمل پیرا ہونا ہوگااور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آپس کے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسائل پر توجہ دینا ہوگی اور ان کا مستقل حل تلاش کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بہتر بنایا جائے اور عوام کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیا جائے۔ حکومت کو سرحدی علاقوں میں اپنی عملداری مضبوط کرنی ہوگی اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اور مقامی مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ شدت پسندی کے رجحانات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ عوام اور حکومت کے تعاؤن سے ہی دہشت گردی کے ناسور سے نجات ممکن ہے اور پاکستان کو ایک پرُامن اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔

Exit mobile version