ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی، میاں عمران رحیم صاحب نے تھانہ کہوٹہ میں درج مقدمہ نمبر 909/25 بجرم 376(3),375A,371 A/B تعزیراتِ پاکستان اور ٹریفکنگ اِن پرسنز (امنڈڈ) ایکٹ 2025 کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ دو کمسن اور نہایت معصوم متاثرین، نور فاطمہ (عمر تقریباً 10/11 سال) اور حیدر علی (عمر تقریباً 9 سال) کے ساتھ بدترین جنسی زیادتی سے متعلق ہے، جنہیں ان کے والدین چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ واقعہ کی نوعیت نہ صرف انتہائی سنگین بلکہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ہے، جس نے معاشرتی اقدار پر ایک گہرا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
متاثرہ بچوں کے تحفظ، فوری انصاف کی فراہمی اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی نے اس مقدمہ کو ہائی پروفائل قرار دے دیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور معزز پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ صاحب کے وژن کے عین مطابق—جس کا بنیادی مقصد کمزور، مظلوم اور بالخصوص بچوں کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی ہے—ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی نے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینے اور قانونی خطوط پر تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ سمیت طلب کیا۔
تفتیشی افسر نے ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہو کر اب تک کی تفتیشی پیش رفت پر جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد فاضل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی نے تفتیشی افسر کو واضح، جامع اور قانون کے تقاضوں کے مطابق لائن آف انکوائری جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تفتیش کو مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تاکہ ذمہ دار ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
*ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی میاں عمران رحیم صاحب* نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کے خلاف جرائم میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاست ہر حال میں مظلوم اور بے سہارا بچوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
