*ٹاٹئل : بیدار ھونے تک*
*خصوصی انٹرویو ۔۔۔۔ خادم حسین رند، کراچی پولیس چیف*
*رپورٹ: جاوید صدیقی*
کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے خادم حسین رند؛ پی ایس پی، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، کراچی پولیس چیف کا انٹرویو کیا، انٹرویو کے دوران پولیس کی کارکردگی اور ذمہداریوں پر بات ھوئی، اس سلسلے میں کراچی پولیس چیف خادم حسین رند کا کہنا ھے کہ جس طرح معاشرے میں چند افراد برائی پھیلانے کے عمل میں نظر آتے ھیں اسی طرح ھمارے محکمہ پولیس میں بھی ایسے افراد ھیں جو محکمہ پر سیاہ دھبہ ھیں جنکی تلاش اور تحقیق کا عمل جاری ھے حالیہ دنوں میں ایسے اکیاسی افراد کے جرائم بمع ثبوت سامنے آئے تو انہیں ھم نے معطل کرکے مزید کاروائی کا حکم دیدیا ھے جبکہ آج ایک اور ایسے بدکرداروں کی فہرست سامنے آئی جنھوں نے اپنے منصب سے بغاوت کرکے مجرم اور جرائم کو تقویت بخشی اور ناجائز مال کنایا انہیں فوری نوکری سے برخاست کیا جارھا ھے، انھوں نے پولیس اور عوام کے رشتے کو مضبوط بنانے کی تقلین کی اور کہا کہ جبتک پولیس اور عوام اعتماد کے رشتے میں مضبوطی سے نہیں بندھیں گے تب تک جرائم اور مجرم آزادانہ گھومتے رہیں گے، خادم حسین رند نے بتایا کہ کسی بھی مجرم کو پولیس جب گرفتار کرتی ھے تو اس کے خلاف گواہ بننے سے عوام ہمیشہ کتراتی ھے عدالت میں گواہ نہ ھونے پر مجرم آزاد ھوجاتے ھیں یہ سلسلہ صدیوں سے یونہی جاری ھے دوسرا یہ کہ عوام کسی بھی مجرم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر کٹواتی ھے اور نہ ہی سامنے کھڑی رہتی ھے، منشیات اور اسمگلروں کے بارے میں وضاحت کرتے ھوئے بتایا کہ ھم نے اسمگلروں کے اطراف گھیرا تنگ کردیا ھے جس سے ان کی حرکات و سکنات دم توڑ گئی ھیں اور اسمگلنگ شدہ اشیاء کی روک تھام کیلئے کئی مقامات پر کامیاب آپریشن کئے جس سے کراچی میں اسمگلنگ کا عمل ٹوٹ چکا ھے حتیٰ کہ ہر ناجائز و غیر قانونی عمل رک چکا ھے، خادم حسین رند نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ تاکین وطن کی واپسی خاص کر افغانیوں کا انخلاء میں سندھ پولیس اور بلخصوص کراچی پولیس کا کردار مثالی حیثیت رکھتا ھے اور کم وقت میں کثیر تعداد میں انکی روانگی کو یقینی بنایا۔ شہر بھر میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں اور قتل و غارت گری کے متعلق بتایا کہ ھم نے اس پر کنٹرول رکھنے کیلئے عوامی تعاون اور باہمی مشاورت کیلئے ایس ایچ او سمیت ڈی ایس پیز، ایس پی اور ایس ایس اپیز کو روزانہ کی بنیاد پر ہر متعلقہ تھانے میں مقررہ وقت میں دو گھنٹے رہنے کے احکامات جاری کئے تاکہ معاشرے میں پھیلے ہوئے جرائم کی اصل صورت سامنے آسکے۔ مزید برآں اے آئی جی خادم حسین رند نے بتایا کہ جس تھانے کی حدود میں جرائم کی شرح تیس فیصد سے زائد ہوئی تو اس پورے تھانے کو نااہل اور عہدوں میں کمی کرکے دور مقام پر تعینات کردیا جائیگا تاکہ ان نااہلوں کی جگہ قابل ذہین اور بہادر ایماندار سچے اہلکار تعینات کئے جائیں گے، اب ھم کسی بھی ایسے اہلکار و افسران کو برداشت نہیں کریں گے جن کی صلاحیتیں مسخ ھوں، پولیس کا محکمہ دنیا بھر میں ایک عظیم مقام کا حاصل سمجھا جاتا ھے گویا ایک پولیس اہلکار قانون کا بہترین رکھوالا ھوتا ھے اور وہ خود بھی قانون پر سختی سے عمل کرتا ھے اور عوام سے بھی کرواتا ھے بصورت قانونی حقوق کے تحت سختی بھی برتا ھے ھم سندھ پولیس کو دنیا کی پروفیشنل پولیس کی طرح بنانے کا نہ صرف عزم رکھتے ھیں بلکہ عمل پیرا کرنے کی پوری کوشش میں لگے ھوئے ھیں، ھم نے پولیس کے محکمہ کو ایک جانب جدید خطوط سے استوار کرنے کے تمام تر پہلو اپنالئے ھیں تو دوسری جانب کمیونیمیشن کے بہترین نظام کو شامل کرکے جرائم اور جرائم پیشہ عناصر کے وجود کو تنک اور گرفت میں کامیابی سے رکھا ھوا ھے اس سلسلے میں جہاں آئی جی صاحب کی سرپرستی شامل حال رہی ھے وہیں پولیس افسران کی مہارانہ صلاحیت نے چار چاند لگادیئے ھیں، الحمدللہ سندھ پولیس کسی بھی سیاسی دباؤ اور سیاسی مداخلت سے آزاد ھوکر کام کررھی ھے اور عوامی خدمت کے شعار سے مزین ھے۔ ھمارے ہر اچھے پہلو میں پاکستان رینجرز کا ساتھ دینا ھمارے جوانوں کے حوصلہ کو بلند اور مضبوط رکھتا چلا آرھا ھے، جہاں تک پروٹوکول کا تعلق ھے محکمہ پولیس نے اس بابت کافی حد تک تخفیف کیا ھے اور اپنا مرکز عوامی خدمات پر ہی مرکوز رکھا یہی وجہ ھے کہ گزشتہ چار ماہ سے سندھ بھر میں اور بلخصوص کراچی شہر میں امن و امان اور سکون کی فضا دیکھی جاسکتی ھے، کراچی پولیس چیف خادم حسین رند نے کہا کہ میں پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کا کے دوستوں کا شکر گزار ھوں کہ جو ہماری کالی بھیڑوں کی نشاندہی اور عیاں کرتے ھیں انکے مثبت پہلوؤں کے سبب ھمیں اور ھماری کمیٹیوں کو بہت آسانی میسر ھوتی ھیں تحقیقات کے عمل میں کیونکہ میڈیا کے دوست آدھا کام ھمارا آسان کردیتے ھیں۔ آپ اپنے منصب کے تحت کام کررھے ھوتے ھیں اور ھم اپنے دائرہ کار میں رہتے ھوئے یہی وجہ ھے کہ باہمی اتفاق و اتحاد سے معاشرے کی درستگی اور جرائم کے خاتمہ کیلئے بہترین مشن کامیابی کیساتھ مکمل ھوجاتا ھے۔ پولیس جرائم کے خاتمے تک لڑتی رہیگی اور عوام کو چاہئے کہ بنا خوف و خطر پولیس کو مشکوک حرکات و سکنات سے آگاہ کرتی رھے یہی ایک اچھے شہری کی نشانی ھے۔ ھم نے اپنے شہداؤں کی فیملیز کیلئے جس قدر پکیج اور مراعات رکھی ھیں شائد ہی کوئی اور اس قدر صلحہ اور قدر کرتا ھو سوائے پاک افواج کے، شہداء کی قربانی پولیس محکمہ کیلئے باعث افتخار ھوتی ھے انہی قربانیوں کے سبب پولیس معاشرے اور ریاست سے ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ھوتے ھیں، تمام شہداؤں کو سلام ۔۔۔۔۔!!
