BBC Urdu TV

خان یونس میں چار روز کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار افراد کی نقل مکانی

اقوام متحدہ کاکہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس شہر کے ارد گرد چار روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق دوسری طرف اس علاقے میں اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اور باقیات نکالنے کا آپریشن جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور(OCHA) نے کہا ہے کہ خان یونس کے علاقے میں حالیہ "شدید لڑائی” میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے 9 ماہ بعد غزہ بھر میں داخلی نقل مکانی کی نئی لہریں پیدا ہوئیں”۔

ان کاکہنا تھا کہ "تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار افراد” وسطی اور مشرقی خان یونس سے پیر اور جمعرات کی درمیانی شب بے گھر ہوئے، جبکہ سینکڑوں دیگر لوگ اب بھی مشرقی خان یونس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پیر کے روز اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج وہاں زبردستی کام کریں گی تاہم ساتھ ہی فوج نے علاقے کو محفوظ قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کو اس طرف نقل مکانی کے احکامات دیے تھے۔

بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے خان یونس میں آپریشن کے دوران پانچ افراد کی لاشیں برآمد کرنے کا اعلان کیا، جن میں ایک خاتون اور دو فوجی شامل ہیں، یہ تمام افراد اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران مارے گئے تھے اور انہیں غزہ کی پٹی منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس ہفتے خان یونس میں حالیہ لڑائیوں کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا کہ اس کی افواج نے شہر میں تقریباً 100 جنگجوؤں کو ختم کر دیا ہے، قیدیوں کی لاشیں زیر زمین چھپی سرنگوں اور دیواروں سے برآمد ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق غزہ کے 2.4 ملین افراد کی اکثریت لڑائی کی وجہ سے کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکی ہے۔

Exit mobile version