BBC Urdu TV

خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی ایس۔ایم۔ بند کے دورے کے موقع پر عوام سے سیلاب سے بچاؤ

خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی ایس۔ایم۔ بند کے دورے کے موقع پر عوام سے سیلاب سے بچاؤ کی احتیاطی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل
نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ):نواب شاہ کے لوگ اس مشکل وقت میں اکیلے نہیں ہیں۔ گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور قیمتی جانوں کو بڑھتے ہوئے پانی سے محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے لیکن ہم سب مل کر اس پر قابو پا سکتے ہیں،” یہ بات اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے جمعرات کو اپنے دورے کے موقع پر کہی۔ انہوں نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی انخلاء کی ہدایت کو لازمی طور پر تسلیم کریں۔ ان کا کہنا تھا آپ کی جانیں قیمتی ہیں، قدرتی آفات کے سامنے کوئی غیر ضروری خطرہ مول نہ لیں۔ خاتونِ اول نے یہ بات ایس۔ایم۔ بند کے مد بنگلہ اور مد منگلی پوائنٹ پر سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جاری انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ بھی موجود تھے۔ بی بی آصفہ نے آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو 1122 محکموں کے زیرِ انتظام قائم ریلیف کیمپس کا معائنہ کیا اور مہراب پور میں بھی احتیاطی اقدامات کا جائزہ لیا۔انتظامیہ نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مد منگلی پوائنٹ نہایت حساس مقامات میں سے ایک ہے جہاں ممکنہ طور پر سیلابی صورتحال سے شدید نقصان ہوسکتا ہے۔ دباؤ کم کرنے کے لیے آبپاشی محکمہ نے حفاظتی ڈھانچے قائم کیے ہیں جن میں ٹی اسپُر، جے اسپُر اور ڈھلوانی اسٹڈز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ بھاری مشینری اور پتھروں کا ذخیرہ بھی قریبی مقامات پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی شگاف کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ مزید برآں، بند کی دن رات نگرانی کے لیے مسلسل گشت جاری ہے۔ریسکیو 1122 حکام نے آگاہ کیا کہ ان کے کیمپس مکمل طور پر کشتیوں، لائف جیکٹس، اسکیوبا سیٹس اور رسیوں سے لیس ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے، جبکہ مد بنگلہ میں قائم میڈیکل کیمپ میں روزانہ تقریباً 80 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خاتونِ اول نے کہا مجھے خوشی ہے کہ مقامی انتظامیہ اپنی بہترین صلاحیتوں اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے متاثرہ برادریوں کی حفاظت اور بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی، قریبی نگرانی اور پیشگی منصوبہ بندی ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کے ساتھ کیا اور خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت صورتحال کو بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔‏اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا مڈبنگلو اور مڈمنگلی کے مقام پر ایس ایم بند کے مختلف مقامات کا دورہ نواب شاہ: رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ایس ایم بند کے مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیانواب شاہ: بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی وزیر برائے امور صحت عذرا فضل پیچوہو اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کے ہمراہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو 1122 کے امدادی کیمپوں کا دورہ کیا بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے محراب پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا دریائے سندھ سے منسلک ایس ایم بند پر مڈ منگلی وہ مقام ہے کہ جہاں ممکنہ سیلاب سے نقصانات کا خدشہ ہے،محکمہ آبپاشی نے مڈ منگلی کے مقام پر دریا کے بہاؤ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ٹی اسپر، جے اسپر اور ڈھلوانی اسٹڈ کے مختلف ڈھانچے تعمیر کئے ہیں، ایس ایم بند پر مڈمنگلی کے پاس بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ پتھروں کا وافر ذخیرہ بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ شگاف کو فوراً پر کیا جا سکے، محکمہ آبپاشی کے اہلکار 24 گھنٹے ایس ایم بند پر گشت کرتے ہیں تاکہ بند کی حالت اور سیلابی صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا سکے، ریسکیو 1122 کے کیمپ کے عملے کے پاس بوٹ، لائف جیکٹ، اسکوبا سیٹ اور رسیوں تک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا تمام سامان موجود ہے، مڈ بنگلو کے مقام پر میڈیکل کیمپ پر یومیہ 80 مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے، گڈو اور سکھر بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، پانچ لاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپرفلڈ نو لاکھ کیوسک تک قرار پاتا ہے، کوٹری بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، ساڑھے چارلاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپر فلڈ آٹھ لاکھ کیوسک سے زیادہ قرار پاتا ہے، 2010 کے سپرفلڈ کے بعد ایس ایم بند کو مختلف مقامات پر مضبوط کیا گیا ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو بریفنگ بپھرتے پانی سے انسانی زندگیوں، املاک، کھیت کھلیان اور جانوروں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، بی بی آصفہ بھٹو زرداری

Exit mobile version