BBC Urdu TV

حکومت عوام کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا بند کرے، فراز الرحمٰن

حکومت عوام کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا بند کرے، فراز الرحمٰن

کراچی(اسٹاف رپورٹ) پاکستان بزنس گروپ (پی بی جی او) کے بانی اور پیٹرن ان چیف اور سابق صدر کاٹی فراز الرحمٰن نے پاکستان کو درپیش شدید معاشی چیلنجز پر بات کی ہے۔

فراز الرحمٰن نے ٹیکس اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ عوام پر اضافی ٹیکس بوجھ ڈالنا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر جبکہ گزشتہ دو سالوں میں افراط زر کی شرح 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے چار ماہ میں 180 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس خسارہ پالیسی کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے اور مخصوص سیکٹرز کی "غیر معمولی منافع خوری” کو ہدف بناتے ہوئے پورا کیا جانا چاہئے۔ "ہمیں منصفانہ ٹیکس تقسیم کے لئے کوشش کرنی ہوگی تاکہ عام شہریوں کا بوجھ کم ہو اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ مل سکے،” انہوں نے کہا۔

فراز الرحمٰن نے تمام صارفین یعنی رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی شعبوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 12 روپے کی کمی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ کمی مجموعی استعمال پر ہونی چاہئے، نہ کہ صرف اضافی استعمال پر۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہدف 31 دسمبر 2024 تک "ٹیک اینڈ پے” معاہدے کے تحت مکمل کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے تمام چیمبرز اور بزنس ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ ان اصلاحات کی حمایت میں قائدانہ کردار ادا کریں تاکہ ہر طبقے کو فائدہ پہنچانے والی معیشت کی تعمیر ممکن ہو سکے۔

Exit mobile version