حکومتِ سندھ, پاکستان پیپلز پارٹی اور متاثرین سیلاب۔۔۔!!
حالیہ بارشوں کے باعث سیلاب نے سندھ بھر میں تباہی مچادی ھے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ شدید متاثر ھوئے ہیں۔ نہ گھر بچا نہ کھیت کھلیان اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء پہنے اوڑھنے گو کہ سب کا سب سامانِ حیات بہہ گیا۔ حقیقت تو یہ ھے کہ متاثرین دکھ درد و الم کے مارے ہیں۔ ان کی داد رسی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی آپ سندھ حکومت کی ھے۔ صوبہ سندھ میں دو مارشل لاء کے علاوہ تمام وقت پاکستان پیپلز پارٹی ہی سندھ پر حکومت کرتی چلی آرھی ھے سب سے زیادہ حکومت کرنے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹروں کیلئے زمینی حقائق کے مطابق کیا کیا کام کئے آج سندھ کا ووٹر ان سے سوال کرتا ھے اور اب سنہ دو ہزار بائیس میں سیلاب زدگان کے نام پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر کتنی امداد حاصل کرچکے ہیں اور کون کون سے اشیاء و املاک شامل ہیں اور کتنی مقدار ہیں ان سب کی تفصیل سندھ کے ووٹرز جاننا چاہتے ہیں۔ سندھ میں موجود محفوظ شہروں میں کتنے حکومتی ریلیف فنڈ قائم کئے اور کتنے لوگوں کو وہاں ٹہرایا گیا۔ اندرونِ سندھ کے ووٹرز اپنے آبائی علاقوں اور کھیتی باڑی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں اس بابت حکومتِ سندھ فوری ہنگامی اقدامات کیوں نہیں کرتی۔ اسکولوں کالجوں کو سندھ حکومت کیوں برباد کرنا چاہتی ھے ہمیں دیگر ایسے مقامات جو سالہا سال بند رہتے ہیں یا سرکاری اشرفیہ کیلئے مختص رہتے ہیں ان میں کیوں نہیں منتقل کیا جاتا۔ جیسے سرکاری گیسٹ ہاؤس, سرکاری ریسٹ ہاؤس, ایم پی اے ہاسٹل مناسب جگہیں ہیں۔ تعلیمی درسگاہوں کی بندش سے ھماری نسلیں علم سے محروم ھوجائیں گی۔ صحت کے مراکز کی بندش سے براہ راست بیماریوں کی روک تھام کے امور میں مشکلات پیدا ھوجائیں گی۔ ھم حکومتِ سندھ, پاکستان پیپلز پارٹی سے پوچھتے ہیں کہ آخر سرکاری گیسٹ ہاؤس, سرکاری ریسٹ ہاؤس, ایم پی اے ہاسٹل میں کیوں نہیں پناہ دی جاتی آپ کو میڈیا میں ھمارے ان سوالوں اور مطالبات کا جواب دینا ھوگا۔ اس دھرتی سندھ کی ترقی و خوشحالی کیلئے ھمیں منصف بننا ھوگا۔۔۔۔۔!!
