BBC Urdu TV

حکمت و دانائی بندہ مومن کے لیے اللہ کریم کی طرف سے بہت بڑی عطا ہے۔لیکن حکمت تب حکمت

حکمت و دانائی بندہ مومن کے لیے اللہ کریم کی طرف سے بہت بڑی عطا ہے۔لیکن حکمت تب حکمت رہے گی

جب پیچھے نیت خالص ہو گی اور وہ جو بھی مسئلہ حل کرے گا اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ ہو۔معاشرے میں برائی اور بدنظمی تب ختم ہو گی جب ہم دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی ذات کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے بندہ مومن کے سینے میں اپنی محبت کے لیے قلب رکھ دیا۔جذبہ محبت اور قرب کی تڑپ سے نوازا اور ہم ہیں کہ ہم نے اس میں نجانے کس کس کی محبتیں پیدا کر رکھی ہیں۔کوئی اقتدار،کوئی دولت جمع کرنے کی محبت اور کوئی اپنی بڑائی کی محبت میں گرفتار ہے۔آج ہم اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ میں حکمت کہاں تلاش کریں گے اگر دانائی ہو تو پھر اعمال میں بھی نظر آنی چاہیے۔آج معاشرے میں جو سود نہیں کھانا چاہتا اس کے حلق میں بھی سود کا ذائقہ جا رہا ہے۔آج مساجد کی صفوں کی تندوں میں بھی سود شامل ہو چکا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ آج صاحب خرد ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی طور پر جسے طاقت اور حکمرانی مل جائے حالانکہ یہ سب فرعونیت ہے اور فرعونیت کا انجام بھی آپ سب کے سامنے ہے۔جتنی برائی پھیلائی جا رہی ہے اتنا زیادہ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔سلسلہ عالیہ کے مشائخ وہ عظیم ہستیاں ہیں جو صاحب رائے لوگ تھے جس طرف رخ کرتے لوگوں کے مسائل بھی حل کرتے جاتے خواہ وہ کسی شعبہ سے بھی ہو۔ایسے عظیم لوگوں نے اپنی زندگیاں برکات نبوت ﷺ کی تقسیم میں لگا دیں ان کی زندگیوں میں محنت و مجاہدہ مثالی تھا۔یہ مجاہدہ بندہ مومن کو ایسے کر دیتا ہے کہ اللہ کریم فرماتے ہیں میں ان کے کان بن جاتا ہوں ان کے ہاتھ بن جاتا ہوں ان کی آنکھیں بن جاتا ہوں۔

یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں ملک و بیرون ممالک سے سالکین سلسلہ عالیہ کی بڑی تعداد شریک ہے جو اپنی روحانی تربیت کے لیے یہاں آئے ہیں۔حضرت جی مد ظلہ العالی روزانہ دن ساڑھے گیارہ بجے صحبت شیخ کے پیریڈ میں خطاب فرماتے ہیں اس کے علاوہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

Exit mobile version