حوصلہ ٹوٹ گیا، حزب اللہ سیزفائر کی بات کر رہی ہے۔امریکا
حزب کو چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں غیر معمولی جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ترجمان امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل
واشنگٹن(نمائندہ فضل خان)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ اب شاید لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا حوصلہ دم توڑ چکا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ سیزفائر کی بات کر رہی ہے۔یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں غٰیر معمولی جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اب اُس میں بظاہر اِتنی طاقت نہیں رہی کہ اسرائیل پر زیادہ حملے کرسکے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب وہ جنگ بندی کی طرف جانے کا سوچ رہی ہے۔امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ لڑائی زیادہ دیر جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہے۔ اِسی صورت خطے میں حقیقی امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ ملیشیا کے ڈپٹی لیڈر نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ تابڑ توڑ حملوں کے باوجود حزب اللہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت پوری طرح برقرار ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ بیان بجائے خود کو اس بات غماز ہے کہ حزب اللہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچ چکا ہے۔جان کربی کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنان میں سیاسی بحران پایا جاتا ہے۔ صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ اگر یہ کام بروقت نہ ہوا تو لبنان میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور معاشی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایسے میں یہ ملک حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔
