حضرت امام حسین ؓ اور خانوادہ رسول ﷺ کی عظیم قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے حق پر قائم رہنا ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان
اللہ کی عظمت پر شہادت دیتے ہوئے ان عظیم ہستیوں نے قربانیاں دیں۔ہم رواجات کو دین کا نام دے کر اپنی نفسانی خواہشات پوری کر رہے ہیں۔ہر سال ایک نئی رسم نیا رواج دین میں داخل کیا جا رہا ہے۔ماہ مبارک ربیع الاول ہو یا محرم الحرام ہم فرائض چھوڑ دیتے ہیں لیکن رواجات کو بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔دیکھنا یہ چاہیے کہ ان عظیم ہستیوں نے کس بات پر قربانیاں دیں۔ہمیں اپنی زندگیاں اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ سے مزین کرنی چاہیے۔ہدایت کا انحصار اللہ کریم کی عطا پر ہے لیکن جنہوں نے رجوع کیا تفکر کیا یہ تفکر انہیں حق تک لے گیا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت دین اسلام پر قائم رہنے کا سبب ہے۔یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم اپنے خالق کے بنائے گئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔جب دنیا سے رخصتی کا وقت آئیگا مال و دولت کسی کام نہیں آئے گاسب یہی پر دھر ے کا دھرا رہ جائے گا کیونکہ اگلے جہان کی کرنسی اور ہے وہی آگے کام آئے گا جو اس کے نام پر اس کی رضا کے لیے اس دنیا میں خرچ کیا ہے اُس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔صدقہ و خیرات خرچ کرنے میں نیت کا درست ہونا لازم ہے خالص اللہ کے لیے خرچ کیا جائے کوئی ذاتی مفاد یا غرض نہ ہو وہی قابل قبول ہو گا۔معاشرے کی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے جو لوگ مانگتے نہیں لیکن ضرورت مند ہیں ان کا خیال رکھا جائے اور صدقہ و خیرات صحیح حقدار تک پہنچانا بھی ہمارا فرض ہے صرف صدقہ دے دینا کافی نہیں رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں ملک و بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ کی بڑی تعداد شریک ہے۔روزانہ دن ساڑھے گیارہ بجے حضرت جی مد ظلہ العالی صحبت شیخ میں خطاب فرماتے ہیں۔
