جینیاتی انقلاب : سائنس کا کہنا ہے کہ آنے والے زمانے میں انسان اس قدر ترقی کرلےگا کہ وہ رحم مادر میں ہے اپنے اندر چھپے D.N.A کوڈ کو ایڈٹ کرے خود میں موجود خاندانی بیماریاں اور کمزوریاں بدل کر اور خود میں تقدیر سے ملی خوبیوں کے ساتھ ساتھ من چاہی صلاحیتیں شامل کرکے خود کو ایک Super Man بنادے گا،
اسی منصوبے پر کام کرتے کرتے حال ہی میں سائنس نے بہت بڑی کامیابی حاصل بھی کرلی ہے،
۔
لیکن ہر چیز کا ایک nagative پہلو بھی ہوتا ہے،
کیا انسان کو سوپر سیلز میں بدلنے کی کوشش میں انسانی D.N.A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوگا کیوں کہ ماں کے پیٹ میں مرد سے ملے اسپمز کیا بنے گے یہ فیصلہ ہمارے ڈی این اے میں موجود کوڈ کرتے ہیں،
کیاں انسان کو سوپر انسان بنانے کے چکر میں کوئی ایسی مخلوق وجود میں نہ آئے گی جو اس نئے دور میں آج کے موجود پرانے انسان سے نفرت کرے،
یا کوئی ایسی مخلوق جو انسان ہو ہی نہ
ہو تو کچھ بھی سکتا ہے ،کیوں کہ انسان انسانیت کے حدود پار کر راہاہے،
تحریر (عمران ابڑو)
