BBC Urdu TV

جہلم : احاطہ عدالت سے چودہ سالہ حسنین شفیق نامی بچہ احاطہ عدالت سے اغواء

جہلم : احاطہ عدالت سے چودہ سالہ حسنین شفیق نامی بچہ احاطہ عدالت سے اغواء

جہلم : مرزا فراز بیگ سے
تفصیلات کے مطابق مورخہ 20-10-2023 عدالت کے حکم کے مطابق محمد رفیع جوکہ حسنین شفیق کا چچا ہے حقیقی والدہ سونیا رانی سے ملوانے عدالت میں لے کر آیا اور والدہ سونیا رانی اپنے دوسرے شوہر ریاض کے ساتھ ملنے آئی چونکہ بچے کے والدین میں طلاق ہو چکی ہے اور گارڈین شپ کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے جس کا مختار نامہ بچے کے والد محمد شفیق نے اپنے حقیقی بھائی محمد رفیع کو دیا ہوا ہے چونکہ بچے کی والدہ نے دوسری شادی کرلی ہے دوسرے والد کے نا روا سلوک کی وجہ سے بچہ والدہ کے ساتھ رہنے سے انکاری تھا اس لئیے عدالت عالیہ نے بچہ حقیقی چچا کے حوالے کر دیا اور ہر ہفتے والدہ سے عدالت کے روبرو ملوانے کو حکم دیا مورخہ 20-11-2023 کو عدالت کے روبرو والدہ سونیا رانی سے حسنین شفیق کی ملاقات کروائی اسی دوران سونیا رانی کا دوسرا شوہر ریاض جس نے بچہ اغواء کرنے کی پہلے سے پلاننگ کی تھی حسننین کو بہلا پھسلا کر احاطہ عدالت سے اغواء کرکے لے گیا۔ کافی تلاش کے بعد جب بچہ نہ ملا تو محمد رفیع معزز جج کے سامنے پیش ہوا کہ میرے بھتیجےکو سونیا رانی اور اسکا دوسرا شوہر اغواء کر کے لے گئے ہیں جج صاحب کے حکم کے مطابق پولیس تھانہ سول لائن نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی اغواء ہونے والے بچے کے چچا کا کہنا ہے کہ ہماری درخواست کے مطابق ایف آئی آر نہیں دے گئی اور نہ ہی ملزمان کو نامزد کیا گیا تین دن گزرنے کے باوجود بچہ بازیاب نہیں کروایا گیا متاثرہ شخص کی ڈی پی او جہلم آئی پنجاب اور نگران وزیر اعلی پنجاب سے اپیل ہے کہ میرا بھتیجا بازیاب کروایا جائے اور ملزمان کے خلاف کوائی کروائی جائے۔اغواء ہونے والے بچے کے چچا کا کہنا ہے چند پہلے بھی سونیا رانی نے دوسرے شوہر ریاض کے ساتھ مل کر حسنین کو اغواء کر کیا تھا جس کی درخواست تھانہ چوٹالہ میں دی گئی تھی اور تھانہ چوٹالہ پولیس نے حسنین کو بازیاب کروایا اور چچا کے حوالے کروایا ۔

Exit mobile version