*جدہ میںں پاکستانی قونصل خانے کے تعاون سے اردو لغت تاریخی اصول پر کی نستعلیق اشاعت کی تقریب پذیرائی*
*اردو لغت کی نستعلیق اشاعت میں ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور حاجی رفیق پردیسی کی سرپرستی لائق تحسین ہے، قونصل جنرل خالد مجید*
جدہ (رپورٹ: جاوید صدیقی) عروس البلاد جدہ سعودیہ عرب میں پاکستانی قونصل خانے کے تعاون اور قونصل جنرل خالد مجید کی سرپرستی میں ابھی کچھ لوگ باقی ہیں” کے پلیٹ فارم سے ریڈیسن ایونٹ مینجمنٹ سروسز کے زیر اہتمام جدہ میں یادگار مشاعرے اور اردو لغت نستعلیق اشاعت کی تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے میں شرکت کے لیے پاکستان سے خصوصی طور پر جدہ تشریف لانے والے نامور شعراء میں علی ارتضی، خاور حسین، ضیا مذکور، ملک محمد عرفان، فریحہ نقوی، عمیر نجمی، سجاد بلوچ، خالد محمود شانی، وصی شاہ، انجم سلیمی اور زاہد فخری جبکہ جدہ سے آفتاب ترابی شامل تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید تھے اور مہمان خاص کی حیثیت سے ادب دوستی میں اپنی مثال آپ معروف کاروباری اور سماجی شخصیت ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی متحدہ عرب امارات سے تشریف لائے۔ جدہ میں برسوں بعد یادگار مشاعرے کے انعقاد کا سہرا "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں” کے روح و رواں اویس احمد بھٹی اور حماد حسن بھٹی کے سر جاتا ہے جنکی ادب دوستی اور اردو زبان سے جنون کی حد تک محبت "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں” کے پلیٹ فارم کو لاہور سے پہلے متحدہ عرب امارات اور اب سعودیہ عرب میں شائقین ادب کے لیے رونق افزا ہوئی۔ یہ باوقار تقریب پاکستان انٹر نیشنل اسکول کی جدید سہولیات سے آراستہ خوبصورت عمارت کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، مشاعرے کے آغاز سے قبل پاکستان میں وفاقی حکومت کے ماتحت قابل فخر ادارے اردو لغت بورڈ، کراچی (فیلڈ دفتر ادارہ فروغ قومی زبان ) کی مرتب کردہ اردو لغت تاریخی اصول پر کا تعارف اور نستعلیق اشاعت کے منصوبے کی تفصیل طارق بن آزاد نے پیش کی اور اس سلسلے میں ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی صاحب کے کلیدی کردار سے حاضرین کو آگاہ کیا، اس موقع پر لغت کی تقریب رونمائی قونصل جنرل خالد مجید اور ڈاکٹر حاجی رفیق پردیسی کے دست مبارک سے انجام پائی، انچارج اردو لغت بورڈ طارق بن آزاد، پاکستان انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل، جدہ میں پاکستانی کمیونٹی کی نمائندہ شخصیات، عرب عمائد اسٹیج پر موجود تھے۔ تقریب کا آغاز قاری حسیب خان کی خوبصورت آواز میں سورہ رحمٰن کی تلاوت سے ہوا، سعودیہ عرب اور پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا گیا، استقبالیہ کلمات ریڈیسن ایونٹ مینجمنٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر حماد حسن بھٹی نے پیش کیے، جدہ میں ادبی تنظیم کبابش آرٹس کونسل کے روح و رواں ملک علی خورشید سلطان نے کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں کے اویس احمد بھٹی کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تمام اسپانسرز اور تقریب کے لیے دست تعاون دراز کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس یادگار تقریب میں اعزازات کی تقسیم کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اعزازات کی تقسیم کا آغاز ایونٹ آرگنائزر اویس بھٹی نے قونصل جنرل کو اعزازی شیلڈ دے کر کیا گیا، ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی صاحب کی خدمت میں ادب دوستی اور اردو لغت کی نستعلیق اشاعت میں تعاون کے اعتراف میں "امیر اردو” ایوارڈ قونصل جنرل خالد مجید کے دست مبارک سے پیش کیا گیا، اردو لغت کی نستعلیق اشاعت پر ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کے لیے سفیر اردو ایوارڈ کا اعلان کیا گیا جسے انچارج اردو لغت بورڈ طارق بن آزاد نے وصول کیا۔ مشاعرے کے سلسلے میں پاکستانی قونصل خانے کے فوکل پرسن محمد عرفان چوہدری کے تعاون کو سراہتے ہوئے اعزازی شیلڈ پیش کی گئی جبکہ اس پروقار تقریب کو کامیاب بنانے میں قابل قدر کردار ادا کرنے کے اعتراف میں قونصل جنرل کے دست مبارک سے لوکل معاونت اور کمیونٹی کو فعال کرنے کے اعزاز میں کبابش آرٹس کونسل کے روح و رواں علی خورشید سلطان کو، کمیونٹی کی طرف سے نمائندگی اور معاونت پر چودھری انصر محمود، فضل میمن، چوہدری طارق، مہر عبدالخالق لک، چودھری اکرم گجر، اور رفاقت چیمہ کو بھی شیلڈز دی گئیں۔ تقسیم اعزازات کے بعد قونصل جنرل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں کے روح و رواں اویس احمد بھٹی اور حماد حسن بھٹی کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ برسوں بعد جدہ میں اس قدر عالی شان ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے اور حاضرین کی کثیر تعداد میں مہمان شعراء کو سننے کے لیے موجودگی تقریب کی کامیابی کی دلیل ہے، انھوں نے اردو لغت کی تکیمل کو اہم قومی کارنامہ قرار دیا اور اس کی نستعیلق اشاعت کی سرپرستی کرنے پرڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان اور ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کو مبارک باد پیش کی۔ خالد مجید نے مستقبل میں اس طرح کی تقریبات کے انعقاد میں قونصل خانے کی جانب سے مکمل تعاون کی یقینی دہانی کروائی اور تقریب میں اول سے آخر تک بنفس نفیس رونق افروز رہ کر سرپرستی فرمائی۔ مشاعرے کے لیے شعراء کرام سے سجی کہکشاں کو سننے کے لیے حاضرین کی بے چینی دیدنی تھی لیکن شرکاء نہایت باوقار انداز میں تقریب میں اپنی نشستوں پر جلوہ گر رہے اور اپنے پسندیدہ شعراء کے کلام پر دل کھول کر داد دی اور انکے کلام سے محظوظ ہوئے، شعراء کرام نے حاضرین کی فرمائش پر اپنے مشہور زمانہ کلام بھی پیش کیے اور نئے اشعار پر بھی خوب خوب داد سمیٹتے ہوئے حاضرین کے ذوق سماعت کی تعریف بھی کی۔ مشاعرے کے کامیاب انعقاد پر قونصل جنرل خالد مجید نے پاکستان ہاوس میں شعراء کرام اور خاص مہمانان کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، اس موقع پر انچارج اردو لغت بورڈ طارق بن آزاد نے اردو لغت تاریخی اصول پر اور انجم سلیمی نے اپنی کتاب قونصل جنرل کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر قونصل جنرل نے بار دگر "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں” کے اویس احمد بھٹی، حماد حسن بھٹی اور انکے رفقاء کو کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور شعراء کرام کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ وہ اس مشاعرے میں شرکت کے لیے تشریف لائے اور ان کی بدولت یہ تقریب کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
