جب پاکستانی قوم چیخ اٹھی۔۔۔!!
میں ایک صحافی ھونے کے ناطے اپنے فرائض منصبی کو ادا کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً عام عوام کے درمیان پہنچتا رہتا ھوں اور ان کے مسائل سمیت انکے موقف جانتا ھوں جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق والے لوگ اپنے جذبات و کیفیات پیش کرتے ہیں گزشتہ دنوں میں عوام کے درمیان پہنچا تو کئی ایک کا کہنا تھا کہ آج دنیا میں جدید ترقی یافتہ انتخابی نظام رائج ھے حتیٰ کہ ھمارے پڑوسی ملک بھارت کا بھی انتخابی نظام ایک درست اور صحیح نتائج پر منظم ھے یہی وجہ ھے کہ وہاں عام پارٹی یا شہری بھی کامیاب ھوجاتا ھے۔ھمارے سیاستدان چاہتے ہی نہیں کہ صاف و شفاف انتخابات ھوں اگر ایسا ھو گیا تو ان کی ہار یقینی اور ایک عام پاکستانی کی کامیابی یقینی ھوگی اور اسطرح ہارس ٹریڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مرجائے گی۔ سیاستدانوں کا رجحان دیکھتے ھوئے آزاد خود مختار الیکشن کمیشن کا ادارہ بھی خود کو متنازعہ بناتا آرھا ھے یہی وجہ ھےکہ ان کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے ملک کے حالات حد سے زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں کاروبار کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے ڈالر تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے مزید ہونے والا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کہنا ہیکہ "سانوں کی” اگر ملک ڈیفالٹ ہوگیا توسیاست دان پتلی گلی سے باہر نکل جائیں گے عام غریب عوام کہاں جائے گی لہٰذا ہم عوام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجواہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی چیف سے گزارش کرتے ہیں کہ فوری مارشل لا لگادیا جائے اور تمام نام نہاد سیاسی جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو گرفتار کرکے ان سب کا سخت احتساب کرکے واقعی سخت سزا دی جائے ساتھ ہی پاکستان میں صدارتی اسلامی نظام نفاذ کیا جائے۔ایک صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق ھو یا جنرل پرویز مشرف ان دونوں جنرلز نے ان ظالم لٹیرے سیاستدانوں پرشفقت و نرمی برتنے پرعوام دشمنی کا مظاہرہ پیش کیا ھے ھونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان سب کرپٹ سیاستدانوں حکمرانوں کا صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہئے تھا تاکہ نہ یہ ھوتے اور نہ ہی ان کی غلاظت رہتی۔
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
