BBC Urdu TV

جامعہ کراچی: کلیہ فنون و سماجی علوم کی 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل نو تعمیر شدہ سینٹرلائزڈ

*جامعہ کراچی: کلیہ فنون و سماجی علوم کی 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل نو تعمیر شدہ سینٹرلائزڈ کلاس رومز کی عمارت کا افتتاح*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے گزشتہ روز کلیہ فنون و سماجی علوم کی 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل نو تعمیر شدہ سینٹرلائزڈ کلاس رومز کی عمارت کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جامعہ کراچی، سعید احمد شیخ نے بتایا کہ کلیہ فنون و سماجی علوم کی نو تعمیر شدہ سنٹرلائزڈ کلاس رومز کی عمارت 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل ہے، جو 175 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔ اس منصوبے کی فنڈنگ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے فراہم کی۔ انکے مطابق عمارت کے گراؤنڈ فلور پر چھ جدید کلاس رومز تعمیر کیے گئے ہیں جن میں ہر ایک میں 40 سے 60 طلبہ کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسکے علاوہ ایک سیمسٹر ہال بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ایک وقت میں 140 سے زائد طلبہ بیٹھ سکتے ہیں۔ عمارت کی پہلی منزل پر تین کلاس رومز اور تین کمپیوٹر لیبز قائم کی گئی ہیں جن میں مجموعی طور پرہر کلاس رومز میں 40 طلبہ بیک وقت کام کر سکتے اور بیٹھ سکتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ میں طلبہ اور شعبہ جات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم انفرااسٹرکچر کی بہتری پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ نئے تعلیمی پروگرام شروع کرتے وقت انکے مطابق عمارت اور آلات کی فراہمی ناگزیر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اگر جامعہ کراچی کے پاس موجود بڑی عمارتیں اور انفرااسٹرکچر کسی نجی ادارے کے پاس ہوتا تو انکی انرولمنٹ دوگنی ہوتی۔ بدقسمتی سے ہم اپنے انفرااسٹرکچر کو اسکی مکمل صلاحیت کے مطابق استعمال نہیں کرتے، جو ایک بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ کراچی محدود وسائل کے باوجود اپنے تعلیمی و انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے، اور ہمیں یہی سوچ اپنانی ہوگی کہ انہی محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

Exit mobile version