*جامعہ کراچی: کراچی یونیورسٹی فارمیسی سائنس کلب کے زیر اہتمام پہلی سائنس فیئر کا انعقاد*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) موجودہ دور میں دماغی اور نفسیاتی صحت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں اور نفسیاتی مسائل درپیش آتے ہیں۔ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ماضی میں کھوئے رہنا، ماضی کی کسی بات پر کڑھتے رہنا یا مستقبل کے کسی خوف کا شکار رہنا ہے جس سے بچنے کا بہترین طریقہ ماضی اور مستقبل کی فکر چھوڑ کر صر ف حال میں جئیں اور لمحہ حاضر کو اپناکر اسے بہترین انداز میں جینے کی کوشش کریں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین جن میں سی ای او صحت کہانی ڈاکٹر سارہ علینہ لاکھانی، رئیس کلیہ علم الادویہ پروفیسر ڈاکٹر حارث شعیب اور ڈاکٹر ایاد نعیم شامل ہیں نے کراچی یونیورسٹی فارمیسی سائنس کلب کے زیر اہتمام کلیہ علم الادویہ کی نئی عمارت میں منعقدہ پہلی دو روزہ "سائنس فیئر” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سائنس فیئر میں کراچی کی چودہ مختلف جامعات سے ستر ٹیموں نے پانچ کیٹیگریز میں اپنے سائنسی پراجیکٹس پیش کئے۔
رئیس کلیہ علم الادویہ پروفیسر ڈاکٹر حارث شعیب نے مزید کہا کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں انکی صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکیں۔ اس موقع پر شعبہ فارمیسی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف ماہرین ججز اور اساتذہ کرام نے تمام پراجیکٹس کا جائزہ لیا اور پراجیکٹس پیش کرنے والوں کی کاوشوں کو سراہا، مقابلہ جیتنے والی ٹیموں کو مبارکباد پیش کی اور کامیاب سائنسی میلے کے انعقاد پر کراچی یونیورسٹی فارمیسی سائنس کلب کی خدمات کو سراہا اور اسطرح کی تعمیری سرگرمیوں کو طلبہ کی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھانے کیلئے ناگزیر قرار دیا۔ سائنسی میلے میں جہاں طلباء وطالبات کی تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئی وہاں پر حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کہانی، دوا ہیلتھ کیئر اور ندیم میڈیکوز نے تین مختلف فری ہیلتھ کیئر کیمپ لگائے، جس میں طلباء وطالبات کے فری چیک اَپ اور مینٹل کونسلینگ کرائی گئی۔ مقابلہ جیتنے والے طلبہ میں بدست رئیس کلیہ علم الادویہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر حارث شعیب اور پروفیسر ڈاکٹر اقبال اظہر نے انعامات تقسیم کئے گئے۔
