*جامعہ کراچی میں تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”سماجی، ماحولیاتی پہلو اور ٹیکنالوجی“ کا آغاز*
*ہمیں افسانوں کے بجائے سائنس پر یقین اور مسائل کو نظر کرنے کے بجائے اسکا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*سندھ گورنمنٹ نے مینگروو کا ایک بہت بڑا پروجیکٹ لگایا ہے جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا۔ صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہمیں افسانوں کے بجائے سائنس پر یقین کرنے کی ضرورت ہے، دیگر ممالک سے پیچھے رہنے کی وجہ معاشرتی مسائل کو نظر انداز، پالیسی سازوں کی عدم سنجیدگی اور کمٹمنٹ کی کمی ہے۔ افسانوں سے نکل کر سائنس پر یقین کرنے اور سائنسی میدان میں ترقی کے ذریعے ہی اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ ہمارے یہاں پلاسٹک بیگ کے استعمال کو ترک کرنے کیلئے حوالے سے پالیسیاں ضرور مرتب کی جاتی ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات کے زیر اہتمام اور نو مختلف شعبہ جات، سینٹرز و انسٹی ٹیوٹس جن میں انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنسز، سینٹر آف ایکسلینس فار ویمنز اسٹڈیز، ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن، انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز، شعبہ باٹنی، انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، شعبہ میتھمیٹکس، اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر اور سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز شامل ہیں کے اشتراک سے میرین بائیوڈائیورسٹی پر منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”سماجی، ماحولیاتی پہلو اور ٹیکنالوجی“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔افتتاحی تقریب کا اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں کیا گیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ میرین بائیو ڈائیورسٹی، سماجی و ماحولیاتی پہلو اور ٹیکنالوجی کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد لائق تحسین ہے۔ اس کانفرنس میں دس سے زیادہ شعبہ جات کا اشتراک جس میں اکیڈیمیاء، صنعتیں اور تھنک ٹینک شامل ہیں سے کانفرنس میں شریک اساتذہ، ریسرچرز اور طلباوطالبات کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ صوبائی وزیر توانائی سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ساحلی پٹیوں کی حفاظت، مینگروو کے جنگلات کی بحالی اور تحفظ کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ ہم اپنے سمندری ماحول میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں، سندھ حکومت نے ذمہ دارانہ ویسٹ مینجمنٹ کو فروغ دینے اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کے لئے آگاہی مہم شروع کی ہے، بالخصوص ساحلی علاقوں میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات کے لئے جو کچھ کیا جانا چاہئے اس طرح سے نہیں ہوسکا اور یہ ہی وجہ ہے کہ آج بہت سارے مسائل ہیں اور ہمارے صوبے یا کراچی کا ایک بہت بڑا حصہ ساحل سمندر میں آتا ہے۔ سندھ گورنمنٹ نے بہت کچھ کیا اور مینگروو کا ایک بہت بڑا پروجیکٹ لگایا گیا جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا اور اس کیلئے خطیر فنڈ بھی فراہم کیا گیا۔ سندھ حکومت نے صنعتی زونز سے خارج ہونے والے فضلے کی سخت نگرانی کو نافذ کیا ہے اور ماحولیاتی معیار کے معیارات کی تعمیل کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، کانفرنس کی سفارشات کو مجھے ارسال کیا جائے تاکہ اس کو بجٹ میں پیش اور اس کے ثرات ہماری زندگیوں پر مرتب ہو۔ کانفرنس کی کنوینر پروفیسر ڈاکٹر صالحہ رحمن نے کہا کہ ہمارے سمندر خطے کے اکہتر فیصد سے زیادہ پر محیط ہیں جو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام خاص طور پر ہماری ساحلی آبادیوں کی فلاح و بہبود سے جڑی ہوئی ہے، جو اپنی روزی روٹی اور خوراک کی حفاظت کیلئے ان ماحولیاتی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری سائنس صرف پانی کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ یہ بقا کی سائنس ہے، یہ پائیدار ماہی گیری کو یقینی بنانے، ساحلی خطرات کو کم کرنے، مینگرووز کی بحالی، مقامی سمندری انواع کی حفاظت اور اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ کمیونٹیز کو سمندری مستقبل کے محافظ کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔
ڈائریکٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کراچی کموڈور ایم مسعود اکرم نے کہا کہ ہمارے یہاں صفائی کے فقدان کی وجہ سے فشریز میں بوپائی جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں صورتحال اسکے برعکس ہے۔ بد قسمتی سے ہم ویلیوایڈیشن میں بہت پیچھے ہیں ہمارے اعلیٰ کوالٹی کے باسمتی چاول اور گلابی نمک پر انڈیا اپنا لیبل لگا کر دنیا کو فروخت کررہا ہے ہمیں ان چیزوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سمندری حیات کی اہمیت اور اسکے استحصال کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے طلباوطالبات سے کہا کہ کی کہ وہ ایک صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
کانفرنس کے پہلے روز اسکول آف بائیو ڈائیورسٹی، ون ہیلتھ اینڈ ویٹرینری میڈیسن یونیورسٹی آف گلاسگو اسکاٹ لینڈ برطانیہ کی عذرا میڈوز نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان: میرین سائنس: تاریخ، ترقی، چیلنجز اور امکانات“پیش کیا۔ افتتاحی تقریب سے ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے بھی خطاب کیا۔
