*جامعہ کراچی میں بدست شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی پلاسٹک ریکوری بینک کا افتتاح*
*پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر فرخ نواز*
*پاکستان میں 40 فیصدفضلہ کلیکٹ نہیں ہوتا،ہمارے پاس انفرااسٹرکچر،فضلہ اُٹھانے اور ڈمپ کرنے کی کمی ہے۔نظیفہ بٹ*
*پاکستان 3.9 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیداکرتاہے جو 2050 ء تک 6.12 ملین ٹن تک ہونے کی توقع ہے۔صاحب عالم خان*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی ڈاکٹر محمد فرخ نواز نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ تقریباً چالیس فیصد سرفیس واٹر آلودہ ہے اور صرف شہر کراچی روزانہ چار سو پچاس ملین گیلن سیوریج کا پانی بحیرہ عرب میں پھینک رہا ہے۔ بھاری دھاتیں، کیڑے مار ادویات اور صنعتی فضلے نے اس زرعی ملک کی مٹی کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً پچاس ملین ٹن ٹھوس فضلہ پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان میں، جہاں ماحولیات خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، ایسے حالات میں ہمیں ماحولیاتی ہنگامی صورتحال اور سرکلر اکانومی جیسے ماحول دوست طریقوں کو فوری فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار بعنوان: "ریکور پلاسٹک، ریسٹور آورپلینٹ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے پلاسٹک ریکوری بینک کا افتتاح بھی کیا۔ ڈاکٹر فرخ نواز نے مزید کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور فضلہ کے انتظام جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ سرکلر اکانومی کے اصول ہمیں زیادہ لچکدار اور پائیدار مستقبل کی طرف ایک راستہ فراہم کرتے ہیں۔ دوبارہ استعمال، ری سائیکلنگ اور تخلیق نو کو فروغ دے کر ہم نہ صرف فضلہ کو کم کرسکتے ہیں بلکہ اقتصادی مواقع اورجدت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ تمام عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نصف خام مال کے نکالنے، پروسیسنگ اور استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سرکلر اکانومی اپروچ کے ذریعے ہم ان پٹ کی قیمتوں کو کم کرسکتے ہیں، اپنے اخراج کو کم کرسکتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے اہداف کو پورا کر سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر کلائمٹ ایکشن اینڈ سسٹین ایبیلیٹی ڈبلیو ایف ڈبلیو ایف پاکستان نظیفہ بٹ نے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم اینڈ کنڈیشن ان پاکستان اینڈ دی پبلک بیہوئر پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کی پیداوار کو کم کرنے اور پلاسٹک کے فضلے کو جمع، الگ کرنے اور ری سائیکلنگ پر توجہ دینے اورپلاسٹک کیلئے علاقائی سرکلر اکانومی فریم ورک کی طرف منتقلی کیلئے پالیسیاں اور حکمت عملی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی بہت ساری مصنوعات کو ہم بند تو نہیں البتہ اس میں بہتری ضرور لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات آگاہی کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہیں جامعہ کراچی میں پلاسٹک ریکوری بینک کے قیام کا مقصد آگاہی کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ پلاسٹک کے نقصانات سے ماحول کو بچانا اور اس میں جمع ہونے والی پلاسٹک کو ری سائیکلر تک پہنچانا ہے۔ پاکستان میں چالیس فیصد فضلہ کلیکٹ نہیں ہوتا اور وہ کہیں نہ کہیں ڈمپ ہوتا ہے۔ ہمارے پاس انفرا اسٹرکچر، فضلہ اُٹھانے اور ڈمپ کرنے کی کمی ہے اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
قائم مقام رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر حاجرہ طاہر نے کہا کہ ٹھوس فضلہ عالمی ماحول کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو ٹھکانے لگانا ناگزیر ہے، جیسا کہ ہم پیٹ بوتلوں کے بارے میں بات کررہے ہیں، ہم انہیں کیسے ٹھکانے لگاسکتے ہیں، اب یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اب وہ دوبارہ قابل استعمال بھی ہیں اور ہم اس فضلے کو دوبارہ قابل استعمال اشیاء میں تبدیل کرکے اپنا پیسہ اور معیشت بچاسکتے ہیں۔ اس لئے ہمارا کام یہ ہے کہ پیٹ کو لانچ یا ری سائیکل کرکے اور اپنے ماحول کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے سے بہت سارے زہریلے عناصر یا کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو ہماری صحت کیلئے نقصان دہ ہیں اور کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹر سیدہ حورالعین نے کہا کہ سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی کے ماحولیاتی کارکردگی کے انڈیکس میں پاکستان ایک سو اسی ممالک میں ایک سو انہتر ویں نمبر پر ہے، ہم کر کیا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کو ضائع کیا جاتا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم ایئرکنڈیشنز سے نکلنے والے پانی کو اپنے ہی گھروں میں پودوں اور بیٹریز میں ڈالنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ سینئر آفیسر سرکلریٹی اینڈ ایبیلیٹی کلائمٹ اینڈ انرجی پروگرام ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان عالم خان نے کہا کہ پاکستان تین اعشاریہ نو ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے جو سنہ دو ہزار پچاس عیسوی تک چھ اعشاریہ بارہ ملین ٹن تک ہونے کی توقع ہے۔ اس پلاسٹک کے فضلے کا تقریباً ستر فیصد یعنی دو اعشاریہ چھ ملین ٹن غلط انتظام، غیر منظم ڈمپو اور لیک شدہ آبی ذخائر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک لاکھ چونسٹھ ہزار تین سو بتیس پلاسٹک کا فضلہ دریائے سندھ کا حصہ بنتا ہے، موجودہ سہولیات میں سالانہ ایک اعشاریہ تین ملین ٹن پلاسٹک کوری سائیکل کیا جاسکتا ہے۔
