BBC Urdu TV

جامعہ کراچی: شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے موقع پر سیمینار اور

*جامعہ کراچی: شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے موقع پر سیمینار اور فوڈ ایکسپو کا انعقاد*

*دنیا بھر کے ساحلی شہر وں میں سی فوڈ کا استعمال زیادہ جبکہ شہر کراچی ساحلی شہر ہونے کے باوجود اس میں سی فوڈ کا استعمال بہت کم ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

*یہ تشویشناک ہے کہ پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائیت سے بھرپور خوراک کی کمی کی وجہ سے نامکمل نشوونما(سٹنٹنگ) کا شکار ہیں۔ جیمز اوکوٹھ*

*دنیا بھر میں روزانہ ایک ٹریلین ڈالرز کا کھانا ضائع ہوتا ہے، پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ جبکہ زرعی اراضی محدود ہوتی جارہی ہے۔ رفیق احمد بُریرو*

*دنیا میں تقریباً 733 ملین لوگ موسمیاتی تبدیلیوں، تنازعات، معاشی بدحالی، عدم مساوات اور وبائی امراض کی وجہ سے بھوک کا سامنا کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نوید بھٹو*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت ایک عالمی چیلنج ہے تاہم یہ مسئلہ جنوبی ایشیائی اور افریقی خطے میں زیادہ سنگین ہے۔ دنیا بھر کے ساحلی شہروں میں سی فوڈ کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے جبکہ شہر کراچی ساحلی شہر ہونے کے باوجود اس میں سی فوڈ کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر بیماریوں کی وجہ بھی غذائی معلومات کا فقدان ہے۔ تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری دنیا اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں خوراک کے مسائل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ وسائل کے باوجود ہم موسمیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس موسمیاتی تبدیلی نے ہمارے زرعی شعبے کو خوراک کی پیداوار کے لحاظ سے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ پائیدار ترقی کے سنہ دو ہزار تیس عیسوی کے اہداف کے حصول کے لئے اکیڈیمیاء، انڈسٹریز اور حکومت کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے موقع پر ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شعبہ فوڈ سائنس میں فوڈ ایکسپو کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں سندھ کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے طلباوطالبات کی جانب سے مختلف جدید اور تکنیکی بنیادوں پر تیار کردہ پروجیکٹس نمائش کے لئے پیش کئے گئے، جن میں خاص طور پر غذائیت کی کمی سے متاثرہ علاقوں کے غذائی مسائل کا حل بھی شامل ہے۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن یونائیٹڈ نیشنز کے سندھ کے صوبائی سربراہ جیمز اوکوٹھ نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ پاکستان میں ہمارے چالیس فیصد بچے غذائیت سے بھرپور خوراک کی کمی کی وجہ سے نامکمل نشوونما کا شکار ہیں جس کا حکومت کو نوٹس لینا چاہئے۔ ہماری توجہ صرف اشرافیہ پر نہیں بلکہ غریبوں پر بھی ہونی چاہئے۔ دیہی علاقوں میں عام پاکستانی خواتین نامکمل نشوونما کا شکاربچوں کی پرورش کر رہی ہیں، غذائی قلت کے اس مسئلے کو فوری طور پر حل اور پرائیویٹ سیکٹر کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی رسائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف فوڈ اتھارٹی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک نظامی مسئلہ ہے جس میں خوراک کے نظام میں تمام شعبوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔ غذائیت کی کمی سے نمٹنے اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے والی موثر پالیسیاں بنانے کے لئے بات چیت میں فوڈ پروسیسرز کو شامل کرنا چاہئے اگر ہم اپنے چالیس فیصد بچوں کی حالت زار کو نظر انداز کرتے رہے تو کم آئی کیو اور کم صلاحیتوں کے حامل نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر بچے کی مدد کریں، خاص طور پر وہ لوگ جو دیہی ماحول میں ہیں۔ہمیں اپنے بچوں میں رکی ہوئی نشوونما کے اس سنگین مسئلے کو ختم کرنے کیلئے اکیڈیمیاء، انڈسٹریز اور حکومتی اشتراک ناگزیر ہے۔ سیکریٹری زراعت سپلائی اینڈ پرائسز ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ رفیق احمد بُریرو نے کہا کہ دنیا بھر میں روزانہ ایک ٹریلین ڈالرز کا کھانا ضائع ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ جبکہ زرعی اراضی میں کمی اور محدود ہوتی جارہی ہے۔سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر سمندری کٹاؤ کی وجہ سے زمین کم ہوتی جارہی ہے، سمندر زمین کو تیزی سے کھا رہا ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بچے نامکمل نشوونما کا شکار ہیں اور نامکمل نشوونما کے شکار بچوں کا دماغ نہیں بڑھتا۔ہمیں زرعی زمینوں میں اضافہ اور اپنے کسانوں اور زرعی سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں ہر شخص پلیٹ بھرنے کی کوشش کرتا ہے یہ سوچے بغیر کہ یہ کھانا ضائع تو نہیں ہوگا۔ ہمیں کھانا ضائع کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ضائع ہونے والے کھانے کو بچانے سے بہت سے لوگ اپنی بھوک مٹاسکتے ہیں۔
ٹیکنیکل کنسلٹنٹ اِن نیوٹریشن پروگرام حکومت سندھ ڈاکٹر نوید بھٹو نے کہا کہ دنیا میں تقریباً سات سو تینتیس ملین لوگ موسمیاتی تبدیلیوں، تنازعات، معاشی بدحالی، عدم مساوات اور وبائی امراض کی وجہ سے بھوک کا سامنا کررہے ہیں جبکہ دو اعشاریہ آٹھ بلین سے زیادہ لوگ صحت مند غذا کے متحمل نہیں ہیں۔ غربت، آفات، سیاسی تبدیلیوں اور معاشی بے یقینی کے مسائل نے بہت سے پاکستانیوں کے لئے غذائیت سے بھرپور خوراک کا حصول یا پیدا کرنے کومشکل بنادیا ہے۔ فاضل پیداوار اور خوراک کی کمی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ملک میں بھوک سے نمٹنے کے لئے ناگزیر ہے۔
صدر شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالحق نے کہا کہ پاکستان کھجور پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، جو عالمی سطح پر چھٹے نمبر پر ہے، جس کی سالانہ پیداوار پانچ لاکھ چالیس ٹن سے زیادہ ہے۔ سنہ دو ہزار بائیس عیسوی میں دو اعشاریہ پانچ بلین بالغ اٹھارہ سال اور اس سے زیادہ کا وزن زیادہ تھا، ان میں سے آٹھ سو نوے ملین موٹاپے کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے سینتیس ملین بچوں کا وزن زیادہ تھا۔ لاہور سے جمع کئے گئے گوشت کے چھ سو نمونوں میں چکن انتیس فیصد، مٹن اٹھارہ فیصد اور گائے کے گوشت میں پندرہ اعشاریہ پانچ فیصد کیمپائلوبیکٹر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد انصاری نے کہا کہ پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ اور تحقیق کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ چار ارب ڈالرز کی خوراک ضائع ہوتی ہے۔ سیمینار سے مختلف صنعتوں سے وابستہ افراد نے بھی خطاب کیا اور اس طرح سیمینارز کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}
Exit mobile version