BBC Urdu TV

جامعات کا صنعت و معاشرے سے ربط وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹرخالد

*جامعات کا صنعت و معاشرے سے ربط وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹرخالد محمود عراقی*

*صنعت صرف ان افراد کو تسلیم کرتی ہے جو مہارت اور محنت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اور صنعتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

*فریز ڈرائیڈ خوراک کی عالمی منڈی کا حجم 2024 میں 30.43 بلین امریکی ڈالر تھا، جو 2034 تک 56.27 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر غفران سعید*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ جامعات کو معاشرے اور صنعت سے مربوط ہونا چاہئے، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں تاحال ہم نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے مابین مضبوط روابط قائم نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ محققین اور طلبہ کو سخت محنت کرنا ہوگی، کیونکہ یہاں کچھ بھی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتا۔ صنعت صرف ان افراد کو تسلیم کرتی ہے جو مہارت اور محنت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اور صنعتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ صرف یہ دعویٰ کرنا کہ ہم کسی شعبے میں ممتاز ہیں، لیکن عملی کارکردگی صفر ہو، تو صنعت میں بقا ممکن نہیں۔ جدید کاروباری دنیا میں چیلنجز کا سامنا ہے اور صرف ڈگری کافی نہیں، بلکہ مہارتوں کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی میں آئس بریکر فاؤنڈیشن ریسرچ لیب جس میں تصور سے حقیقت تک: ایک فعال فریز ڈرائیڈ فوڈ پروٹوٹائپ (فریز ڈرائر) تیار کیا اور لانچ کیاگیا، جو پاکستان کی فوڈ انڈسٹری میں کمرشل پیمانے پر پیداوار اور جدت کی راہ ہموار کرتا ہے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ماسٹر کانفرنس ہال کا بھی افتتاح کیا گیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ بحیثیت وائس چانسلر میری ہمیشہ یہی ترجیح رہی ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے اور ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں جن کی مارکیٹ میں طلب ہو۔ ہمارا مقصد صرف بے روزگار گریجویٹ پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو ملکی صنعت و معیشت میں مثبت کردار ادا کرسکے۔ آئس بریکر فاؤنڈیشن کے چیئر مین محمد علی اور نائب صدر شعیب شنگانی نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں ایک بڑی اور توانائی سے بھرپور آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود، بدقسمتی سے ہم اب تک درآمد شدہ توانائی پر انحصار کرتے چلے آرہے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنے وسائل کو ترقی دے کر خود کفیل بنیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اس مستقل انحصار نے ہماری معیشت کی ترقی کی رفتار کو محدود کیا ہے اور ہماری صنعتوں کی مکمل صلاحیت کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خود انحصاری کی جانب قدم بڑھائیں تاکہ قومی معیشت کو مستحکم اور پائیدار بنایا جاسکے۔ شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران نے کہا کہ فریز ڈرائیڈ خوراک کی عالمی منڈی کا حجم جوکہ 2024 میں 30.43 بلین امریکی ڈالر تھا، 2034 تک تقریباً 56.27 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2025 سے 2034 کے درمیان 6.34 فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ شرحِ نمو (CAGR) سے ترقی کرے گی۔ پاکستان کی کل پھل و سبزیوں کی پیداوار کا تقریباً 91% حصہ مقامی طور پر تازہ کھایا جاتا ہے، جب کہ صرف 9% حصہ پروسیس یا برآمد ہوتا ہے۔ تازہ پھل و سبزیوں کا صرف 6 فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے، اور محض 3% کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات (جیسے پلپس، کنسنٹریٹس، فریز اور محفوظ شدہ خوراک) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر غفران سعید نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریلیا میں اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کسی فصل یا پروڈکٹ کی قیمت کم ہوجاتی ہے یا مارکیٹ میں سپلائی زیادہ ہو، تو اسے فریز ڈرائی کرکے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں، جب مارکیٹ میں ان اشیاء کی مانگ بڑھتی ہے یا قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تو یہی مصنوعات قیمتی داموں برآمد کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی سبزیاں اور پھل مختلف موسموں میں بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن اکثر فصلیں ضائع ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کو محفوظ رکھنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر فریز ڈرائنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے تو پاکستان نہ صرف اپنی زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچاسکتا ہے، بلکہ عالمی مارکیٹ میں فریز ڈرائی مصنوعات برآمد کر کے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ قبل ازیں چیئرمین شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عبدالحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ میں ہونے والی تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں اور آئس بریکر فاؤنڈیشن ریسرچ لیب کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مختلف صنعتوں سے وابستہ افراد جن سی ای او پاپولر گروپ آف انڈسٹریز زبیر امام ملک، صدر کراچی ایسوسی ایشن آف سوئٹس اینڈ نمکو شیخ تحسین، بائیو مصدر کے سی ای حسان بلگرامی، عمر قاسم عمر سن لال قلعہ اور ٹاؤن چیئرمین گلشن ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کو اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز کے مابین ایک پل قرار دیا۔

Exit mobile version