تیمور خان خٹک کی جانب سے چیئرمین پی ٹی اے کے غیر پارلیمانی رویے کی شدید مذمت۔
حکومت چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف فوری طور پر قانونی اور آئینی کارروائی عمل میں لائی جائے۔تیمور خان خٹک
چارسدہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کے اجلاس کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کا رویہ نہایت افسوسناک غیر سنجیدہ اور قابل مذمت رہا اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور رکن سینیٹ سینیٹر ایمل ولی خان کے بارے میں جو نازیبا اور غیر مہذب زبان استعمال کی گئی وہ نہ صرف ایک عوامی نمائندے کی توہین ہے بلکہ پورے جمہوری و پارلیمانی عمل کی تضحیک کے مترادف ہے۔یہ طنز و تضحیک ایک سرکاری افسر کی جانب سے کیا گیا ہے اس لئے معاملہ سنگین ہے کیونکہ ایک ریاستی عہدے پر فائز شخص سے غیر جانبداری شائستگی اور عوامی احترام کی توقع کی جاتی ہے پختون قوم پر لطیفے کسنا اور سینیٹر ایمل ولی خان جیسے سیاسی رہنما پر چرس پینے جیسے طعنوں سے طنز کرنا نہ صرف اُس افسر کے ذاتی تعصب کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے پورے ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے۔ایسے طرزِ عمل سے نا صرف عوام میں نفرت اور تقسیم بڑھتی ہے بلکہ سرکاری اداروں کی غیر جانب داری پر بھی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ایک مہذب ریاست میں سرکاری افسران کا فرض ہے کہ وہ سیاسی و قومی تعصبات سے بالاتر ہو کر اپنی زبان رویے و دیگر سرگرمیوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔سرکاری افسران کمیٹی کے سامنے کمیٹی ممبر کے بارے میں ایسے نا مناسب الفاظ کیسے کہہ سکتے ہے جمہوریت کے ساتھ یہی افسران مذاق کرتے آرہے ہے اس لئے تو اس ملک کا یہ حال ہے یہاں سب عوام کیلئے کام کرنے بیٹھے ہے تو عوام ہی کے خدمت پر توجہ دیں یہی افسران فوج سے ریٹائر ہوکے ان سرکاری عہدوں پر بیٹھنگے تو یہ ایسے ہی جمہوریت کی دھجیاں اڑائنگے یہ نہیں ہونا چاہئے۔چیئرمین ( پی ٹی اے ) نے بلاشبہ بہت زیادہ بدتمیزی کی ان بڑی کرسیوں پر بہت چھوٹے لوگوں کو بٹھایا گیا ہے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کے اجلاس کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کے چیئرمین کا طنز و تضحیک و توہین آمیز لہجہ استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے ۔تیمور خان خٹک اس توہین آمیز رویے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ چیئرمین ( پی ٹی اے ) کے خلاف فوری طور پر قانونی اور آئینی کارروائی عمل میں لائی جائے۔پارلیمان ریاست کا سب سے اعلیٰ و بالا ادارہ ہے جس کی بے توقیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سرکاری افسران کا یہ فرض ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کے ساتھ مکمل احترام اور شائستگی سے پیش آئیں نہ کہ ان کے خلاف بدتمیزی اور توہین آمیز زبان استعمال کریں۔عوامی نیشنل پارٹی اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گی اور پارلیمان کی حرمت و وقار کا دفاع ہر صورت یقینی بنایا جائے
گا یہ صرف ایک سیاسی شخصیت پر حملہ نہیں بلکہ جمہوریت پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی نمائندوں کے وقار پر حملہ ہے یہ وہی پرانی سوچ ہے جو ملک کو بار بار جمہوری پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ ریٹائرڈ جنرل فوری طور پر اپنے بیان پر قوم سے اور ایمل ولی خان سے آن کیمرہ کھلے عام معافی مانگیں جن کے خلاف انہوں نے یہ زہر اگلا یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کے احترام کا ہے جس کے لیے اے این پی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور دیتی رہے گی۔تیمورخان خٹک نے اپنے بیان میں کہا کہ ( چیرمین پی ٹی اے ) نے سو سال سے زیادہ جدوجہد کرنے والے پارٹی کے سربراہ اور ممبر سینیٹ تاریخی معزز خاندان کے اہم شخصیت کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کو اے این پی کے مرکزی صدر و سینٹر ایمل ولی خان پر نہیں بلکہ جمہوریت اور سیاست پر حملہ قرار دیا اور ساتھ ہی یہ وضاحت کی کہ اگر معاملہ سیاسی انداز میں مطالبے کے حق میں استعفے کی صورت میں حل نہیں ہوا تو ہمارے پاس دوسرے آپشن بھی کھلے ہیں ہم آخری حد تک جائیں گے ۔
