BBC Urdu TV

تیل و گیس کے بعد پاکستان میں پانی کی کمی کاسنگین خطرہ منڈلا رہا ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

تیل و گیس کے بعد پاکستان میں پانی کی کمی کاسنگین خطرہ منڈلا رہا ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

6سالوں میں ملک کا 22.84فیصد حصہ پانی سے محروم جبکہ 36.17فیصد ختم ہونے کے قریب ہے:گفتگو
بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اورپانی کے مسائل سے نمٹنے کے فقدان کی وجہ سے مسئلہ بڑھ رہا ہے:چیئرمین
بارشوں کا پانی جو دریاؤں میں جاکر سیلابوں کا باعث بنتا ہے اسے ڈیم بناکر زراعت اور پینے کیلئے محفوظ بنایا جاسکتا ہے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کاملک میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور اقدامات کے فقدان پر تشویش کا اظہار

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ تیل و گیس کے بعد پاکستان میں پانی کا بحران سنگین ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ ملک میں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گرتی جارہی ہے ایک رپورٹ کے مطابق صرف 6سال کے عرصے میں مجموعی طور پر ملک کا 22.84فیصد حصہ پانی سے محروم جبکہ 36.17فیصد اس کے ختم ہونے کے قریب،5تا10 فٹ گہرائی میں پانی کی مقدار 10.94فیصد کمی سے دوچار ہوئی ہے جبکہ 10سے20فٹ زیرزمین پانی 37.07فیصد رہ گیا ہے،ملک کے بالائی حصے جو زیادہ تر بارانی ہیں، بارشیں کم ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں وہاں زیرزمین پانی اوسطاً دو سو فٹ سے زیادہ گہرائی میں ملتا ہے، جو محض گھریلو ضروریات پوری کرسکتا ہے،وطن عزیزمیں ہرسال مون سون سیزن غیرمعمولی بارشوں، سیلابوں اور انکی تباہ کاریوں کی حد کو پہنچ جاتا ہے، باقی مہینوں میں اسی قدر آبپاشی اور آب نو شی سمیت دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے بحرانی کیفیت کا سامنا رہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار زیر زمین پانی کی سطح میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کم وبیش دو دہائیوں سے عالمی ماہرین خبردار کرتے آئے ہیں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور زیرزمین پانی کے مسائل سے نمٹنے کے فقدان کی وجہ سے تازہ اور میٹھے پانی کے معیار اور سیکورٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے مگر حکمران طبقہ کے کانوں پر جوں تک بھی نہیں رینگ رہی ستم ظریفی تویہ ہے کہ اس حوالے سے اقدامات اٹھانے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کی بجائے مسلسل خاموشی اختیار کی جارہی ہے جو لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ شمالی علاقہ جات، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزادکشمیر اور بالائی پنجاب کے بیشتر اضلاع پہاڑی ہونے کی وجہ سے سیکڑوں درمیانے اور چھوٹے ڈیموں کیلئے موزوں ہیں، ہرسال مون سون سیزن میں ہونیوالی بارشوں کا پانی جو دریاؤں میں جاکر سیلابوں کا باعث بنتا اور بالآخر سمندر کی نذر ہوجاتا ہے،اسے ڈیم بناکر زراعت اور پینے کیلئے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
02-09-2024

Exit mobile version