راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ آصف اقبال نے تھانہ پیرودہائی کے علاقے میں واقع مدرسے میں 16سالہ طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی اور تشددکے مقدمہ میں نامزدمرکزی ملزم و مدرسے کے مہتمم کے جسمانی ریمانڈ میں 2یوم کی توسیع کردی ہے عدالت نے مقدمہ کی شریک ملزمہ و مدرسے کی معلمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقدمہ میں نامزد مفتی شاہنواز اور شریک ملزمہ مسماۃ عشرت حنیف کو پولیس کی حراست میں عدالت پیش کیا گیا اس موقع پرملزمان اور متاثرہ لڑکی کے وکلا کے علاوہ سرکاری وکیل اور مقدمہ کا تفتیشی سب انسپکٹر اسلم بھی عدالت میں موجود تھاتفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو پرچہ ریمانڈ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ عشرت حنیف کی گرفتاری 1روز قبل عمل میں آئی ہے لہٰذا ملزمہ سے متاثرہ لڑکی کے کپڑوں کی برآمدگی سمیت دیگر پہلوؤں پر تفتیش کرنا ہے لہٰذا ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جائے جس پرعدالت نے مقدمہ کی شریک ملزمہ مسماۃ عشرت حنیف کے حوالے سے قرار دیا کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی)کی سیکشن167کی ذیلی سیکشن (5)کے تحت کسی خاتون ملزمہ قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات کے علاوہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں نہیں دیا جاسکتالہٰذا مقدمہ کا تفتیشی افسرسی آر پی سی کی سیکشن167کی ذیلی سیکشن (5) اورسیکشن167کی ذیلی سیکشن (7)کے دائرے میں رہ کر تفتیش کریں عدالت نے سینٹرل جیل اڈیالہ کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدائیت کی کہ وہ جیل کے اندر تفتیشی کو تحقیقات کے لئے مناسب انتظامات کریں اسی طرح مقدمہ کے تفتیشی نے استدعا کی کہ مقدمہ کے مرکزی ملزم مفتی شاہنواز سے ان ہتھیاروں کی ریکوری باقی ہے جن کے لئے ملزم نے وقوعہ کے وقت متاثرہ لڑکی کو دھمکیاں دیں پولیس نے موقف اختیار کیا کہ اگرچہ ملزم کا پہلے مجموعی طور پر7روز کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہوچکا ہے لیکن مزید تفتیش کے لئے جسمانی ریمانڈ میں مزید2یوم کی توسیع کی جائے عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مفتی شاہنواز کو2روزہ مزید جسمانی ریمانڈ پرپولیس کی تحویل میں دے دیا اور ہدائیت کی کہ 11ستمبر کو ملزم کو عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے یاد رہے کہ تھانہ پیرودھائی پولیس نے متاثرہ طالبہ مسکان کی والدہ روبینہ گل کی مدعیت میں 17 اگست کوتعزیرات پاکستان کی دفعات 376اور511کے تحت مقدمہ نمبر879درج کیا تھا۔
راولپنڈی : افتخار خٹک سے رپورٹ
