مدعی ولید عثمان ولد محمد نذیر نے تھانہ للہ درخواست دی ڈنڈوٹ سیمٹ فیکٹری میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرتا ہوں امروز بوقت قریب 3:30 بجے دن میرے ماموں اسرار احمد ساکن ٹوبہ نے بذریعہ کال کی کہ میرے بیٹے عثمان علی کو کسی نے مارا پیٹا ہے تم جا کر پتہ جوئی کرو۔
جب میں ان کے گھر گیا تو عثمان علی بعمر 10 سال جو گورنمنٹ سکول میں پنجم جماعت کا طالب علم ہے سے سارا واقع معلوم کیا تو عثمان نے بتایا کہ سکول سے چھٹی کے بعد گھر جا رہا تھا تو اشخاص جن کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہوں نے گلی میں مجھے پکڑ لیا اور ڈنڈوں سے مجھے مارنے پیٹنے لگ گے اور گالی گلوچ کرنے لگے ان میں سے ایک شخص نے ہاتھ میں لوہے کی سنگلی پکڑ رکھی تھی جو اس نے میرے گلے میں ڈال کر باندھ لیا اور دوسرے شخص نے وار ڈنڈا کیا جو مجھے بائیں بازو کے ڈولہ پر لگا پھر وار ڈنڈا کیا جو مجھے کمر پر بائیں جانب لگا پھر ڈنڈا وار کیا جو مجھے دائیں پٹ پر لگا پھر وار ڈنڈا کیا جو مجھے بائیں پٹ پر لگا میرے چیخنے چلانے کی آواز سن کر میری والدہ کی ممانی اور خالہ آ گئیں جنہوں نے منت سماجت کر کے ملزمان سے میری جان بخشی کروائی، وجہ عناد یہ ہے کہ سکول چھٹی کے بعد گھر آتے ہوئے میں نے ان لوگوں کے گھر کے باہر پرے لوہے کے سنگل کو ہاتھ لگایا تھا جس کے بعد اُن لوگوں نے میرا پیچھا کیا اور مجھے مارا پیٹا ہے، میرے ماموں زاد بھائی کے ساتھ ان لوگوں نے مار پیٹ کر سخت زیادتی کی ہے قانونی کاروائی کی جائے جس پر تھانہ للہ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ نمبر 122/22 بجرم 342/500/34 ت پ درج کر تفتیش کا آغاز کیا اور قلیل وقت میں دو کس ملزمان (1)مدثر اور (2) عرفان پسران محمد خان ساکن ٹوبہ کو گرفتار کر لیا۔
ملزمان پابند سلاسل مزید تفتیش جاری
