BBC Urdu TV

تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا استعمال زندگیوں کے خاتمے کا باعث:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا استعمال زندگیوں کے خاتمے کا باعث:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

یونیورسٹیوں اور کالجز میں تمباکو نوشی کا استعمال انتہائی خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے:گفتگو

ملک میں 2کروڑ سے زائد تمباکو نوش ہیں جن کی عمریں پندرہ برس یااس سے زیادہ ہیں:چیئرمین
حکومت تمباکو نوشی کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے جان لیوا اثرات پر خصوصی آگاہی مہم چلائے

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی 31مئی تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن پر قوم کے نام پیغام

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا استعمال انتہائی خطرناک ہے،ملک میں 2کروڑ 90لاکھ سے زیادہ تمباکو نوش ہیں جن کی عمریں پندرہ برس یااس سے زیادہ ہیں اور سالانہ لاکھوں افراد سگریٹ نوشی،شیشہ اور تمباکو کی اشیاء استعمال کرکے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،یونیورسٹیوں اور کالجز میں تمباکو نوشی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے اور اس کی لت میں مبتلا ہوکر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہی ہیں،ستم ظریفی تویہ ہے کہ ملک میں اس کے خلاف قانون ہونے کے باوجود عملدرآمد کا فقدان ہے اگر قانون کے مطابق سزائیں دی جاتیں تو آج اس قدر صورتحال پریشان کُن نہ ہوتی تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے جان لیوا اثرات پر تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر خصوصی آگاہی مہم کا آغاز کرے تاکہ ہماری نوجوان نسل کی جو زندگیاں داؤ پر لگی رہی ہیں وہ محفوظ رہیں۔ان خیالات کا اظہار 31مئی تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وں کے مطابق ملکی آبادی کا چالیس فیصد حصہ سگریٹ،پان،گٹکا،بیڑی اور مین پوری سمیت تمباکو سے بنی مختلف اشیاء بدن میں اتار کرے مختلف موذی امراض میں مبتلا ہورہا ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ بطور فیشن استعمال کی جانی والی سگریٹ کے انتہائی مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں،تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام افراد کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں کمی واقع ہو۔

Exit mobile version