تمباکو نوشی انسانی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
ملکی آبادی کا چالیس فیصد حصہ سگریٹ،پان و دیگر تمباکو کی اشیاء استعمال کرتا ہے:گفتگو
پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں:چیئرمین
تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی کیلئے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ خصوصی آگاہی مہم چلائی جائے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتا ز قریشی کی31مئی انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر گفتگو
( )چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے 31 مئی انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی انسانی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،پاکستان کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ سگریٹ،پان،گٹکا، بیڑی اور مین پوری سمیت تمباکو سے بنی مختلف اشیاء بدن میں اتارتا ہے اور ان چیزوں کو استعمال کرنے والوں کی زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے کے درپے ہیں،پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے بھی آگاہی دینا ہوگی تاکہ اس کے مضر اثرات کم ہوسکیں، پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور صحت عامہ پر تمباکو کے تباہ کن اثرات سے ملکی معیشت کو 700 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دو کروڑ نوے لاکھ سے زائد تمباکو نوش ہیں جن کی عمریں پندرہ برس یا اس سے زیادہ ہیں،ان میں سے ایک کروڑ ستر لاکھ سگریٹ نوش ہیں،سگریٹ نوش اوسطاً ایک دن میں تیرہ سگریٹ پیتا ہے،پریشان کن بات یہ ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین پر عمل درآمد انتہائی کمزور ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً تیس فیصد تمباکو نوش کھلے سگریٹ خریدتے ہیں حالانکہ قانونی طور پرکھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ تمباکو صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بہت نقصان پہنچا رہا ہے،ہر سال اس کی وجہ سے تقریباً 60 کروڑ درختوں کی قربانی دینی پڑتی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کراتے ہوئے اس کے مضر اثرات کے حوالے سے بھی خصوصی آگاہی مہم چلائے تاکہ تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی واقع ہو۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
30-05-2025
