خصوصی تحریر (کاشف شمیم صدیقی):
گزشتہ روز یکم نومبر، دن جمعہ کا تھا، اور دوپہر کے 2 بجے تھے کہ جب ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کی میزبان(RJ) حاجرہ ناز کی آواز FM-101 کو سنتے عوام کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی، حاجرہ، کچھ ہی دیر بعد نشر کیے جانے والے پروگرام کا تعارف پیش کر رہی تھیں جو کراچی میں جاری ایک پروجیکٹ کے حوالے سے تھا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ(KWSSIP) کا یہ ذیلی پروجیکٹ ابتدائی طور پر کراچی کی دو کچی آبادیوں ( عیسٰی نگری اور صوبہ نگر) میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، کچی بستیوں کے عوام کو سماجی طور پر متحرک اور بااختیار بنایا جانا بھی اس پروجیکٹ کے خاص مقاصد میں شامل ہے۔
ریڈیو پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا، KWSSIP کی جانب سے جینڈر اسپیشلسٹ اور فوکل پرسن کچی آبادی پروگرام حمیدہ کلیم اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام(NRSP) کی نمائندگی کرتے جاوید اقبال، پروگرام میں شامل تھے۔ واضح رہے کہ NRSP نامی ادارہ بطور Implementing Partner اس پروجیکٹ میں شامل ہے۔
حمیدہ کلیم نے پروگرام کے آغاز میں بتایا کہ موجودہ وقت میں کچی آبادیوں میں پانی اور نکاسی آب کی صورتحال کیا ہے، عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کے حل کے لیے یہ پروجیٹ کیسے کام کررہا ہے، اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔
یکے بعد دیگرے، جاوید اقبال اور حمیدہ کلیم کی جانب سے سوالات کے جوابات دیے جارہے تھے اور سامعین کو پروجیکٹ کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی جارہی تھی۔
"پروگرام کے بیچ میں، گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے تھما، تو اُن ساعتوں نے ایک مقبول اور معروف کلام کو اپنے اندر سمو لیا تھا۔ ۔ ۔ ”
کچھ گزرتی گھڑیوں کے بعد، گفتگو کے سلسلے کو وہیں سے جوڑا گیا، جہاں وہ تھما تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اہم سوال کے جواب میں جاوید اقبال نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ پانی اور نکاسی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ، ساتھ دیگر اہم سنگ میل بھی عبور کر رہا ہے، جیسے کہ اس پروجیکٹ کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی بھی فروغ پا رہی ہے، کرسچن، مسلم اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو اس پروجیکٹ سے وابستہ ہو کر ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آگیا ہے جہاں وہ مل جل کر اپنے علاقوں کی بہتری اور سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم اور پرجوش ہیں، دوسرا یہ کہ خواتین اور خواجہ سراؤں کی شمولیت کو بھی ممکن بنایا گیا ہے تاکہ محرومی، بے بسی اور لاچارگی دم توڑ سکے اور بااختیاری اور خود مختاری ایک نیا جنم لے لے ۔ خواتین اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی اپنے علاقوں کی بہتری کے لیے اگے آسکیں گے، فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوں گے، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے اور اپنے سماجی کردار کو بااعتماد طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
آخر میں حمیدہ کلیم اور جاوید اقبال کی طرف سے اختتامیہ کلمات ادا کیے گئے، اور یوں FM-101 کا یہ پروگرام اختتام پزیر ہوا۔
