بہاولپور وکٹوریا ہاسپٹل کی گردہ وارڈ میں ڈاکٹروں کی اجارہ داری صحیح مریض انے کے بعد بستر مرگ پر واپس اپنے گھر کو لوٹتا ہے
یہاں پر بہاولپور وکٹوریا ہاسپٹل گردہ وارڈ میں جو کہ بہت اچھا اور مستند سمجھا جاتا ہے ہاؤس جاب ڈاکٹرز نے مریضوں کی جان لینا معمول بنا لیا کوئی بھی مریض وارڈ میں اتا ہے تو فورا اس کی ٹریٹمنٹ کیے بغیر مریضوں کو زبردستی ڈائلسز کے لیے مجبور کیا جاتا ہے پچھلے تین دن سے ڈلسز وارڈ میں تین اموات ہو چکی ہیں جو کہ ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے ہوا سینیئر ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ہاؤس جاب ڈاکٹر مریضوں کو پریشرائز کرتے ہیں اور ان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ڈیلسس کروائیں ورنہ وارڈ کو چھوڑ کے چلے جائیں ۔ جس وجہ سے لواحقین کو مجبورا ان کی بات ماننی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان لواحقین کو جانی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اعلی حکام سے گزارش ہے کہ صحت کے معاملات میں جو انہوں نے عوام سے وعدے کیے ہیں ان وعدوں کو پورا کریں عوام کو سہولیات دیں ادویات کا فقدان ہے تمام ادویات باہر سے منگوائی جاتی ہیں ہسپتال انتظامیہ کا سٹاف بہت بد اخلاق ہے وعدےکے مطابق کوئی ادویات مریضوں کو مہیا نہیں کی جا رہی لیکن بہت سی ادویات نایاب بھی ہیں حکام سے گزارش ہے کہ ایسی مشکلات پر توجہ دیں جو عوام کے لیے بہتری کا باعث بنے اللہ کے بعد ڈاکٹر مریض کے لیے مسیحہ ہے لیکن جب ڈاکٹر ہی جلاد بن جائے تو کس سے امید کی جا سکتی ہے ڈاکٹرز نے مریضوں کو پرائیویٹ چیک کرنے کے لیے اپنے ٹاؤٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو انہیں وارڈز اور باہر بلا کر پرائیویٹس چیک اپ کرانے کی ترغیب دیتے ہیں جو کہ ایک سراسر غلط بات ہے گورنمنٹ اف پنجاب اس عمل کو سختی سے دیکھیں پرائیویٹ کلینکس کو چمکانے کے لیے ہاسپٹل کے اندر مریضوں کو صحیح طرح سے دیکھا نہیں جاتا ۔ سرکاری ہسپتال گورنمنٹ کا بہت بڑا بجٹ استعمال کرتے ہیں جو کہ مریضوں کے لیے کسی کام کا نہیں جب تک کہ انہیں ایک اچھی سروس ادویات اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے دیکھا نہ جائے لہذا گورنمنٹ اف پنجاب وزیراعلی مریم نواز صاحبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنی مانیٹرنگ ٹیم سے ان معاملات کو چیک کرنے کی ہدایات جاری فرمائیں ۔ جس سے ایک عام ادمی کو فائدہ حاصل ہو سکے۔ بی بی سی نیوز بہاولپور۔
