BBC Urdu TV

بھارت اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ طے پاگیا

بھارت اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ طے پاگیا۔

یہ معاہدہ اسرائیل کے دائیں بازو کے سخت گیر وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ کے دورہ بھارت کے دوران ہوا۔

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے درمیان آج دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کردیے گئے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔اسرائیل کے مطابق یہ پہلا معاہدہ ہے جو بھارت نے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے کسی رکن ملک کے ساتھ کیا ہے۔یہ معاہدہ اسرائیل کے دائیں بازو کے سخت گیر وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ کے دورہ بھارت کے دوران ہوا، جہاں انہوں نے نئی دہلی میں اپنی بھارتی ہم منصب نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی۔معاہدے کے تحت سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، جس میں ریگولیٹری تبدیلیوں یا اثاثوں کی ضبطی جیسے خدشات کے خلاف یقین دہانی شامل ہے۔ اس معاہدے میں منصفانہ رویے اور عدم امتیاز کی شرائط طے کی گئی ہیں اور تنازعات کے حل کے لیے آزادانہ ثالثی کا فورم بھی فراہم کیا گیا ہے۔میڈیا کے مطابق گزشتہ برس بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، اس سے قبل رواں سال دونوں ممالک کے عسکری حکام نے دفاعی تعاون کو ’طویل مدتی نقطۂ نظر‘ کے تحت مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔خیال رہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کئی ممالک اسرائیل کے ساتھ معاشی تعلقات محدود کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور بڑے سرمایہ کاری فنڈز نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث اپنی سرمایہ کاری اسرائیلی اثاثوں سے نکالنا شروع کر دی ہے۔

Exit mobile version